Bharat Express DD Free Dish

US Strikes On Iran: ’’ایران پر امریکی حملوں میں اسرائیل کو شامل کرنے کے حق میں نہیں ہے ٹرمپ انتظامیہ‘‘ سی این این کی رپورٹ میں بڑا دعویٰ

سی این این کے مطابق واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی براہِ راست شمولیت سے مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ وہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

واشنگٹن: مغربی ایشیا میں حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اس بات کی خواہاں نہیں ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں میں اسرائیل براہِ راست شریک ہو۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دو اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی شمولیت سے تنازع مزید وسیع اور شدید ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے بعد فوجی کشیدگی میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق، حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکہ نے الزام عائد کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملوں میں ملوث تھا۔ اس کے جواب میں امریکی افواج نے تہران کے خلاف متعدد فوجی حملے کیے۔ اس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، بحرین اور اردن میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر گئی۔

’نیتن یاہو حملوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں‘

سی این این کے مطابق ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو امریکی حملوں میں شمولیت کے خواہاں ہیں، تاہم امریکی انتظامیہ فی الحال اسرائیل کو اس کارروائی کا حصہ نہیں بنانا چاہتی۔ ذرائع کے مطابق، امریکہ کی کوشش ہے کہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جائے اور اسرائیل کی براہِ راست مداخلت سے گریز کیا جائے۔

اسرائیل کا ایران پر دوبارہ حملے کا عندیہ

ادھر اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، چاہے انہیں کسی بیرونی حمایت کے بغیر ہی کارروائی کیوں نہ کرنی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو اسرائیل پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ ایران پر حملہ کرے گا اور فضائی برتری دوبارہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹرمپ وسیع جنگ نہیں چاہتے: ذرائع

سی این این کے مطابق اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں عمومی تاثر یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مکمل جنگ دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے۔ ذرائع کے مطابق، اگر امریکہ کوئی مزید اقدام کرتا بھی ہے تو وہ ممکنہ طور پر ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی تک محدود ہو سکتا ہے، نہ کہ وسیع پیمانے پر نئی فوجی کارروائی۔ بدھ کے روز 2026 نیٹو سربراہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران کے ساتھ تنازع دوبارہ شدت اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا ’’میرا نہیں خیال کہ یہ جنگ دوبارہ شروع ہوگی۔ انہوں نے چند جہازوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے جواب میں ہم نے کہیں زیادہ سخت کارروائی کی۔ جب وہ ایک حملہ کرتے ہیں تو ہم اس کا دس گنا زیادہ جواب دیتے ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read