تہران: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی حملوں سے اگرچہ ایران کو نقصان پہنچا ہے، لیکن اس جنگ کی بھاری قیمت اب امریکی عوام کو بھی ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی سے متعلق اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اسی دوران روس کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والے چند گھنٹوں یا دنوں میں امریکہ اور اسرائیل دوبارہ ایران پر حملے شروع کر سکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو سید عباس عراقچی بھی امریکہ کے ساتھ فوجی محاذ آرائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جنگ کا خرچ امریکی عوام کی جیب پر بوجھ
ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ امریکی عوام کو اب ایران کے خلاف جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف پٹرول کی قیمتوں یا اسٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو نہ دیکھا جائے بلکہ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوگا جب امریکہ میں قرض اور ہاؤسنگ مورگیج کی شرحیں مزید بڑھ جائیں گی۔ سید عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ آٹو لون کی ادائیگیاں پہلے ہی گزشتہ تین دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں اور جلد ہی بڑھتی ہوئی قرض لاگت ممکنہ معاشی سست روی کا سبب بن سکتی ہے۔
جنگ کے بعد ایران میں بھی مہنگائی بے قابو
دوسری جانب جنگ کے اثرات ایران کی معیشت پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عام شہریوں کے اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے آخر تک غذائی اشیا کی قیمتوں میں 115 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کھانا پکانے کے تیل، چاول اور مرغی جیسی بنیادی اشیا کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تین گنا بڑھ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات، الیکٹرانکس، گاڑیوں اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی قیمتیں بھی نئی بلندیوں تک پہنچ گئی ہیں۔
ایرانی ریال تاریخی کمزوری کے قریب
جنگی کشیدگی کے باعث ایرانی کرنسی ریال پر بھی شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ہفتہ کے روز تہران کی اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے ایرانی ریال کی قدر تقریباً 18 لاکھ ریال تک گر گئی، جو اس ماہ کی کم ترین سطح کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو ایران اور عالمی معیشت دونوں پر اس کے مزید سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


