Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz Crisis

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکہ سے منسلک تین بحری جہازوں اور تین آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ، امریکی فوج کی کارروائی میں ایران کے تین خام تیل کے ٹینکر تباہ ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ان خدمات کے عوض فیس لی جائے گی جو ایران کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں۔ ان میں جہازوں کی نیویگیشن، ماحولیاتی تحفظ، انشورنس اور سکیورٹی جیسی خدمات شامل ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ نقشہ ایسے وقت میں شیئر کیا گیا ہے جب آبنائے ہرمز کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی سپلائی کے لیے اس کی خاص اہمیت ہے۔

آبنائے ہرمز کے سلسلے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ رکھتا ہے اور اسے برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک ایران کی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کے ذریعے ایران کی فوج اور سیاسی نظام کو شدید کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکی کارروائیوں کا مؤثر جواب دینے کی اپنی صلاحیت کھو دی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمزکے کنٹرول پر تنازعہ بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے ایرانی فوجی اڈوں، نگرانی کے مراکز، زیرزمین ہتھیاروں کے ڈپو اور سمندری انفراسٹرکچر پر بڑے حملے کئے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ایران کے کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر بحرین میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ عالمی توانائی کی سپلائی کو لے کر خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکہ نے ایران کے 12 شہروں میں واقع 140 مقامات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں اور خلیجی ممالک میں موجود اہداف پر حملے کیے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پرامریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف اضافی فوجی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے، جس کے ذریعہ، امریکی مؤقف کے مطابق، وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کے لئے خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔ امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں اور ان کے شہری عملے پر ہونے والے مبینہ حملوں کے لیے ایران ذمہ دارہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو مقررہ سمندری راستوں اور بین الاقوامی بحری قوانین کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جو جہاز ان ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔