US-Iran Talks: آبنائے ہرمز پوری طرح بند، آئی آرجی سی کا دعویٰ- ٹرمپ نے کہا- 60 دنوں تک ٹریفک فری، امریکہ-ایران جنگ بندی معاہدے پربحران کا خطرہ
ایران نے آبنائے ہرمزکو بند کرنے کے اپنے فیصلے کو لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی سے جوڑا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگ بندی اورمعاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔
US-Iran Peace Deal Talks: امریکہ-ایران جنگ بندی معاہدہ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا داو، 60 دنوں کا الٹی میٹم، آبنائے ہرمزمیں ٹول لگانے کی دی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ایران کوئی ٹول نہیں وصول کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وارننگ دی کہ اگر ایران ڈیل پوری نہیں کرپاتا تو اس اہم شاہراہ پرامریکہ ٹول لگا سکتا ہے۔
Attacks on Indian tanker, MT Liaki Freedom: ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ایم ٹی لیا کی فریڈم پر امریکی حملے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا
حکومت کی جانب سے فوری وضاحت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سمندری سلامتی سے متعلق غلط معلومات اور افواہوں کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف بحری سرگرمیوں کے حوالے سے خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمزبند ہونے کے درمیان سعودی عرب نے شروع کی نئی شپنگ سروس، ہندوستان کو ہوگا زبردست فائدہ
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی تجارت کومتاثرکیا ہے، جس سے شپنگ لائنیں متاثرہوئی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے موانی نے جدہ اسلامی بندرگاہ سے انڈیا (مندرا) اورجبوتی کے لئے ایک نئی شپنگ سروس شروع کی ہے۔
’’آبنائے ہرمز میں ٹول لینا ضروری…‘‘ ایران کی حمایت میں کھل کر اترا قطر، نائب وزیر اعظم نے اپنی دلیل سے ہر کسی کو کردیا مطمئن؟
ایران اور امریکہ کے درمیان قطر سمجھوتہ کرانے میں مصروف ہے۔ پردے کے پیچھے سے قطر کے وزیراعظم الثانی سمجھوتے کا ڈرافٹ تیار کرا رہے ہیں۔ اسی درمیان قطر کے نائب وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز کے ٹول کو درست قرار دیا ہے۔ اسے آبنائے ہرمز کے نظام کے لئے ضروری قراردیا گیا ہے۔
Iran Warns of Military Retaliation: مذاکرات ناکام ہوئے تو دوبارہ ہوسکتا ہے فوجی تصادم، عباس عراقچی نے کہا-’’اب امریکی گھروں تک پہنچ رہی ہے جنگ کی قیمت‘‘
جنگی کشیدگی کے باعث ایرانی کرنسی ریال پر بھی شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ہفتہ کے روز تہران کی اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے ایرانی ریال کی قدر تقریباً 18 لاکھ ریال تک گر گئی، جو اس ماہ کی کم ترین سطح کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو ایران اور عالمی معیشت دونوں پر اس کے مزید سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





