امریکہ اورایران کے درمیان امن مذاکرات کے آغازسے عین قبل آبنائے ہرمزکے حوالے سے متضاد دعووں نے نئی غیریقینی صورتحال پیدا کردیا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے آبنائے ہرمزکو دوبارہ بند کردیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا موقف ہے کہ تجارتی جہازاس اسٹریٹجک سمندری راستے سے گزرنا جاری ہے۔ اس پیش رفت نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امریکہ-ایران مذاکرات پربھی شکوک پیدا کردیئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا اور ریاستی ٹی وی کے مطابق، ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرنے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمزکوجہازرانی کے لئے بند کیا جا رہا ہے۔ فوجی ہیڈ کوارٹرنے کہا کہ یہ اقدام جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں اورحالیہ معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کوپورا کرنے میں امریکہ کی ناکامی کے جواب میں کیا گیا ہے۔ ایرانی فوج نے خبردارکیا کہ صورت حال مزید خراب ہونے پرمزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
امریکہ نے کی تردید، کہا- نقل وحمل جاری
ایران کے اس دعوے کوامریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے فوری طورپرمسترد کردیا۔ سینٹ کام نے کہا کہ آبنائے ہرمزکے ذریعہ جہازرانی بلا تعطل جاری ہے اورامریکی افواج صورتحال پرگہری نظررکھے ہوئے ہیں۔ سینٹ کام کے مطابق، ہفتہ کو55 تجارتی جہازآبنائے سے گزرے، جس سے عالمی منڈیوں میں 17 ملین بیرل سے زیادہ تیل منتقل ہوا۔
آبنائے ہرمز پرایران کا کنٹرول نہیں: سینٹ کام
سینٹ کام نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایران اس بین الاقوامی سمندری شاہراہ کو کنٹرول نہیں کرتا ہے اورجہاز رانی کی آزادی پوری طرح برقرارہے۔ الجزیرہ عربی سے بات کرتے ہوئے، سینٹ کام کے ترجمان نے کہا کہ امریکی فوج سمندری ٹریفک کی حفاظت اورتجارتی جہازوں کی بلا روک ٹوک نقل وحرکت کویقینی بنانے کے لئے صورتحال پرگہری نظررکھ رہی ہے۔ امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ انہیں آبنائے ہرمزکوبند کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ سوئٹزرلینڈ کے لئے روانگی سے قبل، جے ڈی وینس نے امید ظاہرکی کہ سفارتی کوششیں جنگ بندی کوبرقراررکھیں گی اورایران کے جوہری پروگرام اورلبنان کی صورت حال پربات چیت کوآگے بڑھنے کی اجازت دے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

