Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Ceasefire Talks

ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں نے ایران کے ساتھ عرب امن مفاہمت نامہ کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز اور جوہری معائنے کے بارے میں امریکی دعووں کو مسترد کر دیا ہے، جس سے بداعتمادی مزید گہری ہوگئی ہے۔ ٹرمپ کے ہتھکنڈے امن کے عمل کو پٹری سے اتار کرجنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اورامن کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں قطراور پاکستان کی ثالثی کے درمیان امریکہ اور ایران میں بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ اس کا اعلان قطرکے وزارت خارنہ کیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کی شرائط پربات چیت کے لیے خصوصی تکنیکی اورماہرگروپ قائم کئے گئے ہیں۔ یہ گروپ ایم اویوکے تمام پہلوؤں کا احاطہ کریں گے۔

ایران نے آبنائے ہرمزکو بند کرنے کے اپنے فیصلے کو لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی سے جوڑا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگ بندی اورمعاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ایران کوئی ٹول نہیں وصول کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وارننگ دی کہ اگر ایران ڈیل پوری نہیں کرپاتا تو اس اہم شاہراہ پرامریکہ ٹول لگا سکتا ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حتمی مسودے کا اعلان چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔ فریقین نے کئی معاملات پر اتفاق کیا ہے۔ اب اس کا باضابطہ اعلان ہونے سے پوری دنیا کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ حج میں اگرایران پرحملہ ہوتا ہے تو لاکھوں عازمین پھنس جائیں گے۔ عرب کے مسلمان بھی اس سے ناراض ہوں گے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہیں امریکہ حج ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے پرپہنچنا چاہتا ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ جب بدھ کے روز چین کے لئے نکلے، تب انہوں نے ایران سے متعلق بیجنگ میں کوئی بات نہیں کرنے کا اعلان کیا، لیکن جیسے ہی بیجنگ پہنچے، انہوں نے شی جنپنگ سے مڈل ایسٹ میں امن سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ کو پتہ ہے کہ شی جنپنگ کے بغیرایران جنگ ختم نہیں ہوسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں امریکہ اورایران کے درمیان ہوئی گولی باری سے جنگ کا خطرہ بڑھا۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور شیئربازار میں گراوٹ آرہی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جانتے ہیں کہ کیا عالمی توانائی کا بحران مزید گہرا ہو گا؟

ایران نے آبنائے ہرمزکوکھولنے اورامریکہ کواس کی ناکہ بندی ختم کرنے کی اجازت دینے کی تجویزپیش کی، جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں ہوسکتے ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ امریکہ پہلے جوہری ہتھیاروں پرپابندی چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازعہ کی وجہ سے آبنائے ہرمزجوکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے، گزشتہ دو ماہ سے بند ہے، جس سے عالمی سطح پرتیل اور گیس کی سپلائی پربہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔