امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمزکے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ 60 روزہ عبوری جنگ بندی کے دوران یا اس کے بعد آبنائے ہرمزسے گزرنے والے بحری جہازوں پرکوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی انتباہ دیا کہ اگرامن معاہدہ ناکام ہوجاتا ہے توامریکہ اس اہم آبی گزرگاہ پرخود ٹیکس لگا سکتا ہے۔ ہفتہ کے روز(20 جون) کو ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پرپوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگرسوئٹزرلینڈ میں اتوارسے شروع ہونے والی بات چیت مقررہ 60 دنوں کے اندرکسی ٹھوس نتیجے پرپہنچنے میں ناکام رہتی ہے، توامریکہ آبنائے سے گزرنے پراپنا ٹول ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔ عبوری معاہدے کے تحت مذاکرات کاروں کوجوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کا وقت ملا ہے، جس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمزمیں کوئی ٹول نہیں لگے گا: ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا، “60 دن کی جنگ بندی کی مدت کے دوران آبنائے ہرمزمیں کوئی ٹول نہیں لگے گا اور60 دنوں کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی کوئی ٹول نہیں لگے گا، جب تک کہ وہ امریکہ کے ذریعہ اورامریکہ کے لئے نہیں لگائے جاتے۔ اگرمعاہدہ (ڈیل) مکمل نہیں ہوتا ہے، تومشرق وسطیٰ (میڈل ایسٹ) کے ممالک کوفراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے گزشتہ، موجودہ اورمستقبل کے اخراجات کوپورا کرنے کے لئے ٹول عائد کئے جائیں گے۔” ان اعلانات سے ظاہرہوتا ہے کہ امریکہ-ایران مذاکرات تکنیکی سطح پرمشکل سے شروع ہوئی ہیں۔ اہم ثالث پاکستان نے کہا ہے کہ مذاکرات اتوارکوشروع ہوں گے، جس میں قطری ثالث بھی شریک ہوں گے۔
ایران کا دعویٰ، امریکہ کی تردید
دوسری جانب، ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمزکوامریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے میں ناکامی سے اپنے وعدوں کی صریح خلاف ورزی کی وجہ سے بند کیا گیا تھا۔ عبوری معاہدے کا مقصد تمام محاذوں پرلڑائی کوروکنا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنزنے کہا کہ ایران آبنائے ہرمزپرکنٹرول نہیں رکھتا۔ ٹریفک آسانی سے رواں دواں ہے اورامریکی فوج صورتحال کی نگرانی کررہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایسا ہی ہے۔ فوج نے اطلاع دی کہ 55 تجارتی بحری جہازہفتے کے روزآبنائے سے گزرے، جن میں 17 ملین بیرل سے زیادہ تیل تھا۔
سوئٹزرلینڈ میں امریکہ-ایران مذاکرات
آبنائے ہرمزبند کرنے کے اعلان کے کچھ دیربعد ہی ایران کے سرکاری براڈکاسٹرنے بتایا کہ بات چیت کرنے والی ٹیم سوئٹزرلینڈ کے لئے روانہ ہو رہی ہے۔ یہ دورہ جمعہ کے روزسے ملتوی ہوگیا تھا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، ٹیم میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف، وزیرخارجہ عباس عراقچی اورسینٹرل بینل اورتیل محکمہ کے افسران شامل ہیں۔ ڈیل میں ایران کی فریزجائیدادوں کو جاری کرنے کی بات بھی شامل ہے۔ اہم ثالث پاکستان نے بتایا کہ قطری ثالث کی موجودگی میں اتوارکو تکنیکی سطح پرامریکہ اورایران کے مذاکرات شروع ہوں گے۔ امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نے تصدیق کی کہ وائٹ ہاؤس کے مذاکرات کارجیرڈ کشنراوراسٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ میں ہیں، جوایران کے جوہری پروگرام پربات چیت کی تکنیکی تفصیلات پرکام کررہے ہیں۔ جے ڈی وینس نے فاکس نیوزکو بتایا کہ وہ اگلے چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ کا دورہ کرنے کی امید کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے تیل کے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے۔ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی سپلائی روزانہ اس سے گزرتی ہے۔ لہذا، کسی بھی ٹول یا بندش کے عالمی اثرات ہوتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

