Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

امریکی فوج ہائی انرجی لیزر ٹیکنالوجی کو حقیقی آپریشنز میں استعمال کر رہی ہے، ڈرونز کے خلاف ایک لیزر حملے کی لاگت روایتی انٹرسیپٹر میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہوسکتی ہے

ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہوجائے تو آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر مکمل طور پر کھولا جاسکتا ہے، تہران نے سفارتی حل کے لیے واشنگٹن سے باضابطہ یقین دہانی بھی مانگی ہے۔

جنرل شیکرچی نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کی جانب سے گزشتہ دو ماہ کے دوران آبنائے ہرمز سے ایک ارب بیرل سے زیادہ تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے کیے گئے حالیہ دعوے ’جھوٹے‘ اور ’مضحکہ خیز‘ ہیں۔

India LPG Import: خلیجی ممالک سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد ہندوستان نے LPG درآمد کے لیے امریکہ پر اپنا انحصار بڑھا دیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سرکاری حمایت یافتہ ’پریس ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق IRGC نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران قبضے میں لیے گئے امریکی آلے کی تصاویر اور تفصیلی ویڈیو فوٹیج جاری کرے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بغیر پائلٹ زیر آب گاڑی (UUV) پانی کے اندر جاسوسی اور نگرانی، سمندر کی سطح کی نقشہ سازی، سمندری بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے اور آبدوزوں کی کیبلز و پائپ لائنز کی جانچ جیسے اہم کاموں کے لیے تیار کی گئی تھی۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتہ کی رات ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے الگ الگ بات کی۔ اس دوران دوطرفہ امور اور خطے میں تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ہفتہ کو سرکاری ٹیلی ویژن پربات چیت  کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز بند ہے اور اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکہ اپنا رویہ بہتر نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ امریکہ کو سب سے پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کے ذریعے ایران کی فوج اور سیاسی نظام کو شدید کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکی کارروائیوں کا مؤثر جواب دینے کی اپنی صلاحیت کھو دی ہے۔

3 اگست تک خلیجی خطے سے 4,052 ہندوستانی ملاح واپس لائے گئے۔ گزرنے والے جہازوں میں 23 ہندوستانی پرچم بردار اور 39 غیر ملکی پرچم والے جہاز شامل۔ بحیرۂ اسود اور باب المندب کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔

حکومت نے باب المندب، جنوبی بحیرہ احمر اور اس سے متصل یمن کے پانیوں میں کام کرنے والے جہازوں کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں جہاز مالکان اور کپتانوں کو انتہائی محتاط رہنے، سکیورٹی سے متعلق صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور خطرات کو کم کرنے کے لیے اضافی اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔