Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

ڈونالڈ ٹرمپ کے فوجی کارروائی روکنے کے اشارے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں بھی پٹرول اور ڈیزل سستے ہوں گے، اور خام تیل کی قیمتوں میں اس گراوٹ کا ملکی ایندھن کی قیمتوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ایرانی وزارت خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ حملے کے معاملے پر تہران میں یوکرین کے ناظم الامور (Chargé d'Affaires) کو طلب کیا گیا

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کے مسلسل فوجی حملے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ مفاہمتی کوششوں کی قیمت مزید بڑھا دیں گے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

منگل کی رات امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا، جس کے بعد تہران کی فضاؤں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا۔ جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیلی سرحد کے قریب اردن کے ایک شہر پر میزائل حملہ کیا، جس کے بعد بحرین اور سعودی عرب میں بھی ہنگامی انتباہ جاری کر دیا گیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں بھیجے جانے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔

امریکی مرکزی کمان نے کہا تھا کہ بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ اور فضائیہ کے وسائل ایران کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری آمدورفت کو محدود کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمزکے کنٹرول پر تنازعہ بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے ایرانی فوجی اڈوں، نگرانی کے مراکز، زیرزمین ہتھیاروں کے ڈپو اور سمندری انفراسٹرکچر پر بڑے حملے کئے ہیں۔

کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ اس کارروائی کے لیے خطے میں 10 ہزار سے زائد امریکی بحریہ، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار، دو طیارہ بردار بحری جہاز، 20 سے زیادہ جنگی بحری جہاز اور درجنوں فوجی طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام فورسز اس وقت بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہیں۔

حملوں میں ایک بھارتی ملاح ہلاک اور متعدد زخمی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت خارجہ نے تجارتی جہازوں پر حملے فوری طور پر روکنے اور سفارتی مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور متاثرہ بھارتیوں کی مدد کے لیے سفارتی مشن کو سرگرم کردیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپانہوں نے امریکہ کو "آبنائے ہرمز کا محافظ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم بحری راستہ امریکی نگرانی میں دنیا کے تمام ممالک کے لیے کھلا رہے گا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران سے تعلق رکھنے والے جہازوں اور ایرانی یوزر کو اس راستے کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔