Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

جمعرات کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے الزام عائد کیا کہ ایران نے تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے کر کے امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کی مزید کوشش کی گئی تو امریکہ اس کا پہلے سے زیادہ سخت فوجی جواب دے گا۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پرامریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف اضافی فوجی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے، جس کے ذریعہ، امریکی مؤقف کے مطابق، وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کے لئے خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔ امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں اور ان کے شہری عملے پر ہونے والے مبینہ حملوں کے لیے ایران ذمہ دارہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو مقررہ سمندری راستوں اور بین الاقوامی بحری قوانین کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جو جہاز ان ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں صرف تہران کی منظور شدہ گزرگاہیں قابل قبول ہوں گی۔ عمان کے مجوزہ عارضی بحری راستے پر اعتراض۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو بھی جہاز ان ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ایران کوئی ٹول نہیں وصول کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وارننگ دی کہ اگر ایران ڈیل پوری نہیں کرپاتا تو اس اہم شاہراہ پرامریکہ ٹول لگا سکتا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس کا پہلا ردعمل ہے اور اگر مفاہمتی معاہدے کی مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو آئندہ مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مخالف فریق کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایران نے امریکہ پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے معاہدے کی پہلی شق پر عمل درآمد نہ کرکے بداعتمادی اور وعدہ خلافی کا مظاہرہ کیا ہے۔

شہباز شریف نے مزید بتایا کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب کے دوران کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا اور اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی گزشتہ روز اس امید کا اظہار کیا تھا کہ معاہدہ "آنے والے چند دنوں" میں طے پا سکتا ہے۔ اسی طرح امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، اگرچہ بعض حساس نکات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔

حکومت کی جانب سے فوری وضاحت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سمندری سلامتی سے متعلق غلط معلومات اور افواہوں کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف بحری سرگرمیوں کے حوالے سے خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی ممالک کی بڑی مقدار میں تیل و گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ایران کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی اور خام تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔