نئی دہلی :ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک جہاز نے مقررہ بحری راستے کی خلاف ورزی کی اور اپنا نیویگیشن سسٹم بھی بند کر دیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز کو متعدد بار راستہ تبدیل کرنے کی وارننگ دی گئی، لیکن اس نے ہدایات پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ کئی دیگر بحری جہازوں نے بھی اجازت کے بغیر مقررہ سمندری راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔ اسی صورتحال کے پیش نظر ایران نے سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو آئندہ اطلاع تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی اور مداخلت جاری رہے گی، اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ تہران نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر اس کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور امریکہ کے اتحادی ممالک کے فوجی مراکز بھی اس کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز پر منڈلاتے خطرات کے درمیان امریکہ، عراق اور شام ایک بڑے توانائی معاہدے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں ممالک آئندہ ہفتے شمالی عراق کو شام کے بحیرۂ روم کے ساحلی شہر بنیاس سے جوڑنے والی کئی دہائیوں پرانی تیل پائپ لائن کو دوبارہ فعال کرنے کے منصوبے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنا اور عالمی منڈیوں تک خام تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستہ فراہم کرنا ہے۔رپورٹس کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے، جہاں وائٹ ہاؤس میں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اسی موقع پر امریکہ، عراق اور شام کے درمیان مجوزہ معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔
اس منصوبے کا مرکز کرکوک۔بنیاس آئل پائپ لائن ہے، جو عراق کے شمالی شہر کرکوک سے شام کی بحیرۂ روم پر واقع بندرگاہ بنیاس تک تقریباً 800 کلومیٹر طویل ہے۔ پائپ لائن دوبارہ فعال ہونے کے بعد عراق کو بحیرۂ روم کے ذریعے براہِ راست عالمی منڈیوں تک تیل برآمد کرنے کا موقع ملے گا، جس سے خلیجی بحری راستوں اور خصوصاً آبنائے ہرمز پر اس کا انحصار نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں امریکہ کے سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی ایلچی ٹام بیرک اس منصوبے سے متعلق مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔ امریکہ اس منصوبے کو خطے میں اقتصادی تعاون بڑھانے اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی اسٹریٹجک پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے اہم قدم قرار دے رہا ہے۔ عراقی وزیراعظم اپنے امریکی دورے کے دوران ٹیکساس کا بھی دورہ کریں گے، جو امریکہ کی توانائی صنعت کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔کرکوک۔بنیاس پائپ لائن 1952 میں عراق پیٹرولیم کمپنی نے تعمیر کی تھی۔ اس کی یومیہ ترسیلی صلاحیت تقریباً تین لاکھ بیرل خام تیل تھی۔ تاہم 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران شام کی جانب سے ایران کی حمایت کے بعد عراق نے اس پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل بند کر دی تھی۔ بعد ازاں 2003 میں امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کے دوران پائپ لائن کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد سے یہ تقریباً غیر فعال رہی۔
حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے عالمی توانائی منڈی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں کرکوک۔بنیاس پائپ لائن کی بحالی خطے میں تیل کی ترسیل کے نظام میں اہم تبدیلی لا سکتی ہے۔تاہم اب تک امریکہ، عراق یا شام کی جانب سے اس مجوزہ معاہدے کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ کے توانائی اور تجارتی ڈھانچے میں ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جائے گا، جو آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

