تہران: ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جاری رہنے کے بعد ہفتہ کو آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، یہ فیصلہ خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے کیا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ڈیجیٹل طور پر دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کی پہلی شق پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کے باعث یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ’’دشمن کی وعدہ خلافی‘‘ کے جواب میں کیا گیا ہے۔
ایران کی مزید اقدامات کی وارننگ
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس کا پہلا ردعمل ہے اور اگر مفاہمتی معاہدے کی مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو آئندہ مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مخالف فریق کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایران نے امریکہ پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے معاہدے کی پہلی شق پر عمل درآمد نہ کرکے بداعتمادی اور وعدہ خلافی کا مظاہرہ کیا ہے۔
حملے حزب اللہ کی خلاف ورزیوں کا جواب
دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ جنوبی لبنان میں تازہ فضائی حملے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوجیوں پر 50 سے زائد راکٹ حملے کیے، جس کے بعد راکٹ لانچنگ مقامات، اسلحہ کے گوداموں اور کمانڈ سینٹروں کو نشانہ بنایا گیا۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے، تاہم اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو لاحق کسی بھی خطرے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی جاری رکھے گا۔
حزب اللہ کا ردعمل، ہلاکتوں میں اضافہ
حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی افواج کو نشانہ بنایا، تاہم اس کا دعویٰ ہے کہ وہ جمعہ کی دوپہر سے جنگ بندی کی پابندی کر رہی ہے۔ ادھر جنوبی لبنان کے نبطیہ ضلع میں جاری اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی ہے، جن میں ایک لبنانی فوجی بھی شامل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
