Strait of Hormuz: مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان مودی حکومت کا بڑا دعویٰ، آبنائے ہرمز سے دو چار نہیں، پورے 62 جہاز بحفاظت گزرے
3 اگست تک خلیجی خطے سے 4,052 ہندوستانی ملاح واپس لائے گئے۔ گزرنے والے جہازوں میں 23 ہندوستانی پرچم بردار اور 39 غیر ملکی پرچم والے جہاز شامل۔ بحیرۂ اسود اور باب المندب کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔
MEA Issues Advisory: ’’بحیرۂ اسود کے خطے میں بحری جہازوں پر ملازمت سے قبل سکیورٹی خطرات کا جائزہ لیں بھارتی شہری‘‘ وزارت خارجہ نے جاری کی ایڈوائزری
حیرۂ اسود کے خطے میں تجارتی جہازوں پر ملازمت کرنے والے بھارتی شہریوں کے لیے جاری تفصیلی ایڈوائزری میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ملازمت کی شرائط پر لاگو بین الاقوامی بحری معیارات کی پابندی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ جاری تنازع کے باعث بحیرۂ اسود اور اس سے متصل سمندری علاقوں میں سکیورٹی کی صورتِ حال انتہائی غیر یقینی ہے۔
Commercial Ship Attacked in Black Sea: روسی سمندری حدود میں حملے کی اطلاع، بحیرۂ اسود میں تجارتی جہاز پر حملے میں ایک بھارتی شہری ہلاک، وزارت خارجہ نے کی مذمت
وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ دستیاب اطلاعات کے مطابق حملے میں ایک بھارتی شہری کی المناک موت ہوگئی، جبکہ جہاز پر سوار دیگر دو بھارتی شہری محفوظ ہیں۔ وزارت نے ہلاک ہونے والے بھارتی شہری کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
Strait of Hormuz: ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی صرف ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں تک محدود، امریکی بحریہ محفوظ آمدورفت بنا رہی ہے یقینی: وائٹ ہاؤس
کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ اس کارروائی کے لیے خطے میں 10 ہزار سے زائد امریکی بحریہ، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار، دو طیارہ بردار بحری جہاز، 20 سے زیادہ جنگی بحری جہاز اور درجنوں فوجی طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام فورسز اس وقت بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہیں۔
Attacks on Commercial Vessels: آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے خلاف بھارت کا سخت احتجاج، وزارت خارجہ نے ایرانی سفارت خانے کے نائب سربراہ کو کیا طلب
حملوں میں ایک بھارتی ملاح ہلاک اور متعدد زخمی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت خارجہ نے تجارتی جہازوں پر حملے فوری طور پر روکنے اور سفارتی مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور متاثرہ بھارتیوں کی مدد کے لیے سفارتی مشن کو سرگرم کردیا گیا ہے۔
India-Australia Uranium Deal: بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان طے پایا یورینیم معاہدہ، مودی-البانیز سربراہ اجلاس میں لیے گئے 18 اہم فیصلے، بھارت-بحرالکاہل میں مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق
وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اس دورے کے دوران ہونے والے 18 اہم فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اور آسٹریلیا مستقبل کو اعتماد کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ترقی، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
India’s Coastal Security Impregnable: حکومت بھارت کی ساحلی سلامتی کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے پرعزم: امت شاہ
بندرگاہوں کی سکیورٹی کے لیے بیورو آف پورٹ سکیورٹی کے قیام کا جائزہ۔ سی آئی ایس ایف سے تربیت یافتہ اہلکاروں کی تعیناتی اور تمام بندرگاہوں پر کنٹینر اسکیننگ اور ماہی گیر مراکز کی نگرانی مضبوط بنانے کی ہدایت۔
India-Indonesia Strategic Partnership: بھارت اور انڈونیشیا کا دفاع، تجارت اور بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم، وزیر اعظم مودی اور صدر پرابوو سوبیانتو کے درمیان جانئے کن کن معاہدوں پر ہوا اتفاق؟
مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
India’s MAHASAGAR Policy: ’’ہندوستان کی مہاساگر پالیسی جاپان کے آزاد اور کھلے بھارت-بحرالکاہل وژن سے ہم آہنگ‘‘ وزیراعظم مودی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں سنائے تاکائیچی کا اظہار خیال
سنائے تاکائیچی نے کہا کہ آئندہ برس ہندوستان اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوں گے، جسے دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لانے کے بہترین موقع کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہند-جاپان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے مرحلے تک لے جانا چاہتی ہوں، اور آئندہ دورے پر وزیر اعظم مودی کا جاپان میں خیرمقدم کرنے کی منتظر ہوں۔
Strait of Hormuz New Route: آئی آر جی سی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے نئے بحری راستے کو کیا مسترد، غیر مجاز راستوں پر کارروائی کا انتباہ
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں صرف تہران کی منظور شدہ گزرگاہیں قابل قبول ہوں گی۔ عمان کے مجوزہ عارضی بحری راستے پر اعتراض۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو بھی جہاز ان ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔





