Bharat Express DD Free Dish

MEA Issues Advisory: ’’بحیرۂ اسود کے خطے میں بحری جہازوں پر ملازمت سے قبل سکیورٹی خطرات کا جائزہ لیں بھارتی شہری‘‘ وزارت خارجہ نے جاری کی ایڈوائزری

حیرۂ اسود کے خطے میں تجارتی جہازوں پر ملازمت کرنے والے بھارتی شہریوں کے لیے جاری تفصیلی ایڈوائزری میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ملازمت کی شرائط پر لاگو بین الاقوامی بحری معیارات کی پابندی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ جاری تنازع کے باعث بحیرۂ اسود اور اس سے متصل سمندری علاقوں میں سکیورٹی کی صورتِ حال انتہائی غیر یقینی ہے۔

نئی دہلی: روس-یوکرین تنازع کے باعث بحیرۂ اسود اور اس کے آس پاس کے سمندری علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال انتہائی حساس رہنے کے پیش نظر حکومت نے تجارتی جہازوں پر ملازمت اختیار کرنے کے خواہش مند بھارتی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ایسی ملازمت قبول کرنے سے قبل موجودہ سکیورٹی خطرات کا احتیاط سے جائزہ لیں۔ بحیرۂ اسود کے خطے میں تجارتی جہازوں پر ملازمت کرنے والے بھارتی شہریوں کے لیے جاری تفصیلی ایڈوائزری میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ملازمت کی شرائط پر لاگو بین الاقوامی بحری معیارات کی پابندی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ جاری تنازع کے باعث بحیرۂ اسود اور اس سے متصل سمندری علاقوں میں سکیورٹی کی صورتِ حال انتہائی غیر یقینی ہے۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ’’ان پانیوں میں کام کرنے والے یا ان سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سمیت سکیورٹی کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔‘‘ وزارت نے بتایا کہ اپریل 2026 سے تجارتی جہازوں پر ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پانچ بھارتی شہریوں کی المناک موت بھی ہو چکی ہے۔

ملازمت قبول کرنے سے پہلے خطرات کا جائزہ لینے کی اپیل

وزارت خارجہ نے کہا کہ تنازع سے متاثرہ خطے میں کام کرنے والے یا وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ملازمت اختیار کرنے کے خواہش مند بھارتی شہریوں کو ایسی ملازمت قبول کرنے سے پہلے موجودہ سکیورٹی خطرات کا احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے۔ وزارت نے کہا کہ جو افراد ایسی ملازمت اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، انہیں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے اور ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ ایڈوائزری میں بھارتی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ملازمت قبول کرنے سے قبل آجر، بھرتی کرنے والی ایجنسی اور جہاز چلانے والے آپریٹرز سے جہاز کے طے شدہ راستے، بندرگاہوں پر قیام، سکیورٹی انتظامات، انشورنس کوریج اور ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے طریقۂ کار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں۔ وزارت نے کہا کہ ملازمت کی شرائط پر لاگو بین الاقوامی بحری معیارات کی پابندی یقینی بنائی جائے اور ہنگامی صورتِ حال میں طبی سہولت، انخلا، وطن واپسی اور معاوضے کے لیے مناسب انتظامات موجود ہوں۔

اہل خانہ کو سفر کی تفصیلات سے آگاہ رکھیں

وزارت خارجہ نے بھارتی شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اہل خانہ کو اپنے سفر کے روٹ اور پروگرام سے باخبر رکھیں اور ان سے باقاعدگی سے رابطے میں رہیں۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن اور حکومتِ ہند کے دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری ایڈوائزری پر نظر رکھنے اور اس کی پابندی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ جہاز چلانے والے آپریٹرز اور مجاز بحری حکام کی جانب سے جاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔

مدد کیلئے بھارتی سفارت خانوں سے رابطہ کریں

وزارت خارجہ نے تنازع سے متاثرہ خطے میں تجارتی جہازوں پر ملازمت اختیار کرنے کے خواہش مند بھارتی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی راستوں کے تحت کام کرنے والے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے رواں ماہ کے شروع میں جاری سکیورٹی ایڈوائزری کا بھی مطالعہ کریں۔ وزارت نے کہا کہ قونصلر مدد کے ضرورت مند بھارتی شہری خطے میں موجود بھارتی سفارت خانے یا قونصل خانوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

بھارتی ملاحوں کی تعیناتی کے حوالے سے بھی احتیاطی ہدایات

وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی راستوں کے تحت کام کرنے والے بحری شعبے کے ریگولیٹر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے تنازعات سے متاثرہ حساس بحری علاقوں میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال کے پیش نظر وقتاً فوقتاً ایڈوائزری اور سرکلر جاری کیے جاتے رہے ہیں۔ رواں سال جون میں جاری ایک سرکلر میں خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال کے پیش نظر بھارتی ملاحوں کے لیے احتیاطی اقدامات کی تفصیلات دی گئی تھیں۔ اس میں سکیورٹی کے حوالے سے زیادہ چوکس رہنے پر زور دیتے ہوئے شپنگ کمپنیوں اور آر پی ایس ایل کمپنیوں کو مزید احکامات تک بھارتی ملاحوں کو تنازع والے علاقوں میں تعینات کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم رضامندی کے ساتھ ہنگامی صورتِ حال میں عملے کی تبدیلی کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ وزارت جہاز رانی نے اس سے قبل بتایا تھا کہ ملاحوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے ایک خصوصی ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہنگامی مواصلاتی نظام قائم کرنے، بھارتی سفارتی مشنز اور قونصلر حکام سے رابطہ برقرار رکھنے، سرکاری ایڈوائزری کی نگرانی کرنے، متاثرہ ملاحوں کو مدد فراہم کرنے اور مشکل حالات میں مناسب تعاون یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read