Bharat Express DD Free Dish

MEA

15 ستمبر کی شام شمالی بحیرہ عرب میں بھارتی بحریہ کے ایک فرنٹ لائن جنگی جہاز اور پاکستانی بحریہ کے ایک جہاز کے درمیان ٹکر ہو گئی تھی۔ پاکستانی بحری جہاز معمول کی نگرانی کی مہم پر تعینات بھارتی جنگی جہاز کے انتہائی قریب تیز رفتاری سے آیا اور اس دوران اس نے غیر پیشہ ورانہ انداز اختیار کیا۔ اسی وجہ سے دونوں جہازوں کے درمیان ٹکر ہوئی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت اپنے قانونی اور پارلیمانی معاملات میں کسی بیرونی دباؤ کے تحت کام نہیں کرتا۔ انہوں نے FCRA بل کو JPC کے پاس بھیجے جانے سے متعلق امریکی مداخلت کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔

وزیر اعظم کے دوروں سے سفارتی تعلقات مضبوط ہونے کا دعویٰ۔ اپریل 2021 سے دسمبر 2025 تک 381.8 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) حاصل ہوئی۔ وزارت خارجہ کے مطابق سال 2026 میں اب تک وزیراعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں پر تقریباً 74.5 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی پریس کانفرنس سے متعلق خبر کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ پہلے ہی تصدیق کرچکی ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان کوبرکس اجلاس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے، جسے غوروخوض کے لئے وزیراعظم کے دفتربھیج دیا گیا ہے۔

حیرۂ اسود کے خطے میں تجارتی جہازوں پر ملازمت کرنے والے بھارتی شہریوں کے لیے جاری تفصیلی ایڈوائزری میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ملازمت کی شرائط پر لاگو بین الاقوامی بحری معیارات کی پابندی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ جاری تنازع کے باعث بحیرۂ اسود اور اس سے متصل سمندری علاقوں میں سکیورٹی کی صورتِ حال انتہائی غیر یقینی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ یوکرین میں ہندوستانی مشن صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہلاک ہونے والے ہندوستانی شہریوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور زخمی ہندوستانی شہری کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کرتا ہے۔

یوٹا کے شاپنگ مال میں حملہ آور نے مبینہ طور پر مسلمان ہونے کی تصدیق کے بعد سید سہیل الدین پر 15 سے زائد وار کیے۔ متاثرہ نوجوان کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ اہل خانہ نے حکومت ہند سے ایمرجنسی ویزا اور سفارتی مدد کا مطالبہ کیا۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ حکومتِ ہند اس پورے معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ بھارتی شہریوں کی حفاظت اور امداد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت آسٹریلیا کو صاف شدہ پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے، جبکہ آسٹریلیا طویل عرصے سے بھارت کو کوئلہ اور قدرتی گیس جیسی اہم توانائی مصنوعات فراہم کرتا آ رہا ہے۔

وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم آر مہاجن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک مقیم بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں 24 گھنٹے ہیلپ لائن خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔