Bharat Express DD Free Dish

maritime security

وزیراعظم نے کہا کہ آتم نربھر بھارت، محفوظ بھارت اور وکست بھارت کے وژن کو مضبوط بنانے میں یہ جہاز اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ سمندر کو تعاون، رابطے اور ترقی کا ذریعہ سمجھا ہے، لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ امن کے تحفظ کے لیے مضبوط دفاعی طاقت ضروری ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس کا پہلا ردعمل ہے اور اگر مفاہمتی معاہدے کی مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو آئندہ مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مخالف فریق کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایران نے امریکہ پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے معاہدے کی پہلی شق پر عمل درآمد نہ کرکے بداعتمادی اور وعدہ خلافی کا مظاہرہ کیا ہے۔

برطانوی حکام نے روسی تیل کی پابندیوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے جہاز کو تحیل میں لیا تھا۔ برطانوی وزیر دفاع ڈین جاروس کے مطابق تحویل میں لیے گئے جہاز کے عملے میں شامل بھارتی اور جارجیائی شہری اس وقت نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔

خلیجِ عمان میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے بعد نئی دہلی نے واشنگٹن کے سامنے شدید احتجاج درج کرایا ہے اور بھارتی ملاحوں کی ہلاکت اور سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایم ٹی سیٹے بیلو 10 جون کو آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی زد میں آیا۔ جہاز پر سوار 24 بھارتی عملے کے ارکان میں سے 21 کو عمانی حکام کے تعاون سے بحفاظت بچا لیا گیا، جبکہ تین ہلاک ہوگئے۔ بھارت کی وزارتِ جہاز رانی نے جمعرات کو ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی ممالک کی بڑی مقدار میں تیل و گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ایران کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی اور خام تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔

حکومت ہند نے گریٹ نکوبار جزائر کی ہمہ جہت ترقی کے لیے چار باہم مربوط منصوبوں کا تصور پیش کیا ہے، جن میں انٹرنیشنل کنٹینر ٹرانس شپمنٹ پورٹ، مشترکہ استعمال کے لیے گرین فیلڈ ایئرپورٹ اور نیول ایئر اسٹیشن، ٹاؤن شپ اور پاور پلانٹ شامل ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ سکس ڈگری چینل سے محض 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جو خلیج عدن سے مالاکا آبنائے تک پھیلے اہم بحری تجارتی راستے پر واقع ہے۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور سمندری راستوں پر تنازع کے درمیان آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور توانائی سلامتی کے مرکز میں آ گئی ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑسکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اس آپریشن میں شامل امریکی طیاروں کو ریاض کے جنوب مشرق میں واقع پرنس سلطان ایئربیس استعمال کرنے یا اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو جلد ہی مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔