Bharat Express DD Free Dish

India’s Coastal Security Impregnable: حکومت بھارت کی ساحلی سلامتی کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے پرعزم: امت شاہ

بندرگاہوں کی سکیورٹی کے لیے بیورو آف پورٹ سکیورٹی کے قیام کا جائزہ۔ سی آئی ایس ایف سے تربیت یافتہ اہلکاروں کی تعیناتی اور تمام بندرگاہوں پر کنٹینر اسکیننگ اور ماہی گیر مراکز کی نگرانی مضبوط بنانے کی ہدایت۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو کہا کہ حکومت ملک کی ساحلی سلامتی کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے بندرگاہوں کی سلامتی کے لیے قائم کیے جانے والے بیورو آف پورٹ سکیورٹی (BoPS) کے تحت تعینات کیے جانے والے سکیورٹی اہلکاروں کا جامع ڈیٹا بیس تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ امت شاہ نے مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں سربانند سونووال کے ساتھ بیورو آف پورٹ سکیورٹی کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

صرف تربیت یافتہ اہلکاروں کی تعیناتی کی ہدایت

اجلاس میں وزیر داخلہ نے ہدایت دی کہ بندرگاہوں کی سکیورٹی کی ذمہ داری صرف لائسنس یافتہ نجی سکیورٹی ایجنسیوں کو دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف وہی نجی سکیورٹی اہلکار بندرگاہوں پر تعینات کیے جائیں جنہوں نے سنٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس (CISF) سے باقاعدہ تربیت حاصل کی ہو۔ امت شاہ نے سی آئی ایس ایف کو ہدایت دی کہ ملک کی اہم بندرگاہوں، جن میں وشاکھاپٹنم بندرگاہ، جواہر لعل نہرو پورٹ اور مندرا پورٹ شامل ہیں، میں بیورو آف پورٹ سکیورٹی کے مجوزہ حفاظتی انتظامات کی آزمائشی مشقیں (Trial Runs) کرائی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورٹ سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (PSTI) میں دستیاب بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت جلد از جلد شروع کی جائے۔

تمام بندرگاہوں پر کنٹینر اسکیننگ کی سہولت

وزیر داخلہ نے ہدایت دی کہ بیورو آف پورٹ سکیورٹی کے دائرہ کار میں آنے والی تمام بندرگاہوں پر کنٹینر اسکیننگ کی سہولت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرچنٹ شپنگ ایکٹ 2025 کی دفعہ 13 کے تحت بیورو آف پورٹ سکیورٹی ایک قانونی ادارے کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے، جس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل کریں گے اور یہ وزارتِ بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے تحت کام کرے گا۔ امت شاہ نے کہا کہ بیورو آف پورٹ سکیورٹی جہازوں اور بندرگاہی تنصیبات کی سلامتی سے متعلق نگرانی، معائنہ، معلومات کے تجزیے اور تبادلے کا ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے میں سائبر سکیورٹی کے لیے ایک خصوصی شعبہ بھی قائم کیا جائے گا، جو بندرگاہوں کے آئی ٹی نظام کو سائبر حملوں اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کا کام کرے گا۔

ماہی گیروں کی سکیورٹی مضبوط بنانے کی ہدایت

وزیر داخلہ نے محکمہ ماہی پروری کے حکام کے ساتھ بھی اجلاس کیا اور ماہی گیروں کی بندرگاہوں اور فش لینڈنگ سینٹروں کی سلامتی مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ اسرو (ISRO) کی تیار کردہ ’نبھ متر‘ (Nabhmitra) ایپ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے تاکہ زیادہ تعداد میں ماہی گیر اسے اپنے موبائل فون میں استعمال کر سکیں۔

پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات

امت شاہ نے محکمہ ماہی پروری کو ہدایت دی کہ تمام اضلاع کے ضلع مجسٹریٹوں اور پولیس سپرنٹنڈنٹس کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں موجود تمام فش لینڈنگ سینٹروں کی فہرست مرکزی حکومت کو فراہم کریں۔ انہوں نے ماہی گیروں کی رجسٹریشن کا عمل آسان بنانے، فش لینڈنگ مراکز پر مناسب حفاظتی انتظامات یقینی بنانے اور وہاں مستقل پولیس اہلکار تعینات کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اجلاس میں مرکزی داخلہ سکریٹری، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر، سیکریٹری بارڈر مینجمنٹ، سکریٹری وزارتِ بندرگاہیں، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں، سیکریٹری محکمہ ماہی پروری، سی آئی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read