Strait of Hormuz: آبنائے ہرمز سے بھارتی پرچم بردار جہازوں کی آمد کا سلسلہ جاری، بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز فراہم کر رہے ہیں سکیورٹی
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث اس خطے میں تعینات بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز بھارتی پرچم بردار تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہے ہیں۔ ایل پی جی بردار جہاز شوالک اور نندا دیوی کے بعد تیسرا بھارتی پرچم بردار جہاز جگ لاڈکی بھی محفوظ طریقے سے بھارت کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔
Iran-US conflict: خلیجی خطے سے اب بحرہند تک پھیلی ایران۔امریکہ کشیدگی، سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز پر حملہ
سمندر سے چند لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جہاز کے عملے کے ارکان کی ہو سکتی ہیں۔ ہلاک شدگان کی حتمی تعداد تاحال جاری نہیں کی گئی اور شناخت کا عمل جاری ہے۔ یہ واقعہ سمندری حدود میں پیش آنے والا ایک بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
President Murmu boarded INS Vaghsheer: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کا آئی این ایس واگھشیر پر پہلا بحری سفر، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی بھی رہے موجود
صدر مرمو نے بھارتی بحریہ کی دیسی کالوری کلاس آبدوز INS واگھشیر پر سوار ہو کر مغربی ساحل پر بحری سفر کیا۔ اس موقع پر چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی، سپریم کمانڈر آف آرمڈ فورسز کی حیثیت سے صدر کے ساتھ موجود تھے۔ یہ صدر دروپدی مرمو کا کسی کالوری کلاس آبدوز پر پہلا بحری سفر ہے۔ وہ اس تجربے کو حاصل کرنے والی بھارت کی دوسری صدر بن گئی ہیں۔ اس سے قبل سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے آبدوز پر سمندری سفر کیا تھا۔
INS Udaygiri and INS Himgiri join the Navy: آئی این ایس اُدے گری اور آئی این ایس ہِم گری کا بیک وقت کمیشن — بھارتی بحریہ کی تاریخ میں پہلی مثال، دو جدید ترین اسٹیلتھ فریگیٹس کی شمولیت سے بحریہ کی جنگی صلاحیت میں اضافہ
یہ جہاز ڈیزائن، اسٹیلتھ، ہتھیار اور سینسر سسٹمز میں نمایاں بہتری کے حامل ہیں اور سطحی جنگ، آبدوز شکن آپریشنز، الیکٹرانک مشنز اور نگرانی جیسے کئی فرائض انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
India-Fiji unveil major defence: بھارت اور فجی کا دفاعی اور سمندری سلامتی میں بڑے اقدامات کا اعلان، سُوا میں بھارتی ہائی کمیشن میں دفاعی اتاشی کا نیا عہدہ
وزیراعظم نریندر مودی اور فجی کے وزیراعظم سیتی وینی رابوکا کی مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق، ہند-فجی تعلقات میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے، جس کا مقصد انڈو پیسفک خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔ اس سال کے آخر میں ایک بھارتی بحری جہاز فجی کی بندرگاہ پر خیرسگالی دورہ کرے گا۔





