نئی دہلی: دفاعی ذرائع کے مطابق گریٹ نکوبار جزائر (GNI) کا جامع ترقیاتی منصوبہ نہ صرف بھارت کے اہم بحری اور اقتصادی مراکز میں شامل ہوگا بلکہ اس کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ اور قبائلی برادریوں کے مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بین الاقوامی بحری تجارتی راستوں اور سی لائنز آف کمیونیکیشن (SLOCs) کے قریب واقع ہونے کا فائدہ اٹھائے گا، جس سے ایک طرف غیر ملکی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہوں پر انحصار کم ہوگا اور دوسری جانب بھارتی دفاعی افواج کی موجودگی مزید مضبوط ہوگی۔
چار بڑے منصوبوں پر مشتمل جامع ترقیاتی پروگرام
حکومت ہند نے گریٹ نکوبار جزائر کی ہمہ جہت ترقی کے لیے چار باہم مربوط منصوبوں کا تصور پیش کیا ہے، جن میں انٹرنیشنل کنٹینر ٹرانس شپمنٹ پورٹ، مشترکہ استعمال کے لیے گرین فیلڈ ایئرپورٹ اور نیول ایئر اسٹیشن، ٹاؤن شپ اور پاور پلانٹ شامل ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ سکس ڈگری چینل سے محض 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جو خلیج عدن سے مالاکا آبنائے تک پھیلے اہم بحری تجارتی راستے پر واقع ہے۔ دنیا کے دو تہائی تیل اور تقریباً نصف کنٹینر ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کے باعث اس علاقے کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔
بحر ہند میں بھارت کی دفاعی اور بحری صلاحیتوں میں اضافہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ بحرِ ہند کے خطے میں مختلف علاقائی اور عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں، اسلحہ اسمگلنگ، منشیات کی غیر قانونی تجارت اور غیر قانونی ہجرت جیسے چیلنجوں کے پیش نظر یہ منصوبہ بھارت کی آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے بھارت جنوب مشرقی بحرِ ہند میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنا سکے گا اور انسانی امداد و آفات سے نمٹنے (HADR)، سرچ اینڈ ریسکیو (SAR) اور سمندری سلامتی کے شعبوں میں اپنی قائدانہ حیثیت مستحکم کر سکے گا۔ ذرائع نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’مہاساگر‘‘ (MAHASAGAR) نظریے کے مطابق غیر قانونی بحری سرگرمیوں کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
ماحولیات، قبائلی حقوق اور روزگار پر خصوصی توجہ
دفاعی ذرائع کے مطابق منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ 2006 کے ماحولیاتی اثرات کے ضوابط (EIA) اور 2019 کے کوسٹل ریگولیٹری زون (CRZ) ضوابط کے مطابق لیا گیا ہے۔ اس عمل میں زولوجیکل سروے آف انڈیا، وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور سلیم علی سینٹر فار آرنیتھولوجی اینڈ نیچرل ہسٹری جیسے اداروں نے حصہ لیا۔ ذرائع کے مطابق جزیرے کے صرف 166.1 مربع کلومیٹر علاقے کو ترقیاتی منصوبے کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ 81.74 فیصد رقبہ قومی پارکوں، جنگلات، بایوسفیئر ریزرو اور قبائلی تحفظ کے علاقوں کے طور پر برقرار رہے گا۔ منصوبے کے تحت جنگلی حیات، نباتات اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے 30 برسوں پر مشتمل 2,220.41 کروڑ روپے کا خصوصی پروگرام بھی تجویز کیا گیا ہے، جس میں لیدر بیک کچھوؤں، نکوبار میگاپوڈ پرندوں، مگرمچھوں، مرجانی چٹانوں اور مینگرووز کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ اس منصوبے سے ایک لاکھ سے زائد براہ راست روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ خدمات اور معاون صنعتوں میں بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ ان کے مطابق گریٹ نکوبار منصوبہ قومی سلامتی، اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے بھارت کے طویل مدتی اسٹریٹیجک مفادات کو مضبوط بنائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

