کولمبو: امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ اسی دوران بحرِ ہند میں سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز پر آبدوز سے حملے کی خبر سامنے آئی ہے، جس کے بعد خطے میں تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سری لنکا کی بحریہ کے ترجمان کے مطابق ایرانی جنگی جہاز سے پہلے ڈسٹریس کال موصول ہوئی، جس کے کچھ ہی دیر بعد آبدوز کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ بحریہ کا کہنا ہے کہ جہاز سے آگ اور دھواں اٹھتا دیکھ کر فوری امدادی کارروائی شروع کی گئی۔ ترجمان کے مطابق جہاز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس پر سوار کئی افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ متعدد افراد لاپتہ بھی بتائے جا رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر 101 افراد کے لاپتہ اور 78 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بعد میں حکام نے کہا کہ درست اعداد و شمار کی تصدیق جاری ہے۔
حملہ آور کی شناخت نامعلوم
سری لنکن بحریہ کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ ایرانی جنگی جہاز پر آبدوز کے ذریعے حملہ کس نے کیا۔ تاہم اطلاع ملتے ہی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ بحریہ کے مطابق زخمیوں کو سمندر سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ امدادی کارروائیوں میں بحری جہازوں کے ساتھ فضائی وسائل بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
سمندر سے لاشیں برآمد
تلاشی کے دوران سمندر سے چند لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جہاز کے عملے کے ارکان کی ہو سکتی ہیں۔ ہلاک شدگان کی حتمی تعداد تاحال جاری نہیں کی گئی اور شناخت کا عمل جاری ہے۔ یہ واقعہ سمندری حدود میں پیش آنے والا ایک بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سری لنکن حکام کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ جانیں بچانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد خطے میں سلامتی کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

