Bharat Express DD Free Dish

Indian Ocean

جنوری 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لکشدیپ دورے کے بعد سیاحت کے ساتھ رابطے، بنیادی ڈھانچے اور سمندری سلامتی پر بھی تیزی سے کام ہوا، اگتی ایئر فیلڈ کی توسیع، منی کوئے میں نئے ایئر فیلڈ اور بحریہ کی بڑھتی موجودگی نے جزائر کی اہمیت مزید بڑھا دی۔

 اوم برلا نے سیشلز کی نیشنل اسمبلی کی اسپیکر ازریل یولانڈا ارنیسٹا سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون، یوگا، اے آئی اور ڈیجیٹل پارلیمنٹ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

روس کی جانب سے جن امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، ان میں موجودہ ریلوے نیٹ ورک کو مزید توسیع دے کر جنوبی ایشیا تک پہنچانا شامل ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو روس اور بھارت کے درمیان سامان کی نقل و حمل کے لیے ایک نیا زمینی راستہ دستیاب ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان قدیم سمندری روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر کبھی فاصلے کی علامت نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دونوں قوموں کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہندوستان اور انڈونیشیا کے لیے سمندر نے ہمیشہ ہمیں قریب لانے کا کام کیا ہے اور آئندہ بھی ہمارا مشترکہ مستقبل اسی سے وابستہ ہے۔‘‘ 

وزیراعظم نریندر مودی 27 سے 29 جون تک سیشلز کے سرکاری دورے پر رہیں گے۔ قومی دن کی گولڈن جوبلی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ وزیراعظم سیشلز کی قومی اسمبلی سے خطاب کریں گے اور بھارتی برادری سے بھی ملاقات کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق جنگی جہاز ڈینا آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم سے واپسی کے دوران 4 مارچ کو سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں تھا، جب اس پر حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ بحرِ ہند میں ایران کے ایک جنگی جہاز کو امریکی افواج نے ٹارپیڈو حملے کے ذریعے ڈبو دیا ہے۔

سمندر سے چند لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جہاز کے عملے کے ارکان کی ہو سکتی ہیں۔ ہلاک شدگان کی حتمی تعداد تاحال جاری نہیں کی گئی اور شناخت کا عمل جاری ہے۔ یہ واقعہ سمندری حدود میں پیش آنے والا ایک بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر ایوی لوئب کے مطابق زمین پر آنے کے بعد وہ میٹرونائٹ سمندر میں جذب ہو گیا لیکن اس سے کچھ دیر پہلے ہی کچھ امریکی سیٹلائٹز نے اس کا سگنل پکڑ لیا جس سے ثابت ہوا کہ یہ میٹرونائٹ ہمارے نظام شمسی کا نہیں تھا۔

جیٹ طیاروں نے مشرقی سیکٹر میں ہسیمارا ایئر فورس اسٹیشن سے اڑان بھری، مختلف ہتھکنڈوں اور نقلی آپریشنز پر مشتمل مشن کو انجام دیا اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے بعد بیس پر واپس آئے۔ رافیل جیٹ طیارے 23 سالوں میں ہندوستان کا لڑاکا طیاروں کا پہلا بڑا حصول ہے۔

بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آر ہری کمار اور ان کے سنگاپور کے ہم منصب ریئر ایڈمرل شان واٹ اور آسیان کے سینئر معززین موجود تھے