تہران: ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صرف ایران کی منظور شدہ بحری گزرگاہوں کا استعمال کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق آئی آر جی سی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض حکام نے تہران سے پیشگی اطلاع یا مشاورت کے بغیر آبنائے ہرمز میں ایک نیا بحری راستہ متعارف کرایا ہے، جسے ایران ناقابلِ قبول اور بحری سلامتی کے لیے خطرناک سمجھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے صرف وہی راستے مجاز ہیں جن کی منظوری اسلامی جمہوریہ ایران نے دی ہے۔ ایران نے تمام جہازوں کو متنبہ کیا کہ وہ مقررہ بحری راہداریوں سے باہر سفر نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنا ممنوع اور انتہائی خطرناک ہے۔
ایران سے رابطہ لازمی، خلاف ورزی پر ہوگی کارروائی
آئی آر جی سی بحریہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کے لیے چینل 16 کے ذریعے ایرانی حکام سے رابطہ رکھنا لازمی ہوگا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ جو بھی جہاز ان ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
عمان کے اعلان کے بعد ایران کا ردعمل
یہ بیان عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری فراہم کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ عمان نے بدھ کے روز کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی میریٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے اشتراک سے جہازوں کے لیے ایک عارضی بحری راہداری فراہم کر رہا ہے، تاکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رہے اور کسی قسم کی ٹرانزٹ فیس عائد نہ کی جائے۔ عمانی حکومت کے مطابق یہ اقدام امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے اور اس راہداری سے استفادہ کرنے والے جہازوں کو آئی ایم او کے ساتھ رابطہ رکھنا ہوگا۔
ٹرمپ کا موقف، ایران کا جواب
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس عائد کرنے کی شق شامل ہوئی تو یہ ان کے لیے ناقابلِ قبول ہوگی۔ نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر کسی آبنائے پر ایسی فیس قبول کی گئی تو دنیا کی دیگر اہم بحری گزرگاہوں کے لیے بھی اسی طرح کے مطالبات سامنے آسکتے ہیں، جسے وہ ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور تہران ان کی متعدد شرائط ماننے پر آمادہ ہے۔ دریں اثنا ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ایک بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ جب تک خطے میں امریکی عسکری مداخلت جاری رہے گی، اس وقت تک حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے امریکہ پر خطے میں جنگوں، تشدد اور عدم استحکام کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


