Bharat Express DD Free Dish

West Asia

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے عراق کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ کارروائیاں امریکہ اور صہیونی حکومت کے ان مقاصد کے مطابق ہیں جن کا ہدف مغربی ایشیا میں جنگ اور کشیدگی کو مزید بڑھانا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے عراق کے عوام کے نام تحریری پیغام میں کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی بلا روک ٹوک بالادست موجودگی کا تسلسل ایک ’بے وقوفانہ خیال‘ ہے۔ انہوں نے اپنے والد علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم بھی دہرایا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ ’’بحرین کو سنجیدہ وارننگ دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی حدود کو پہچانے، اپنے مستقبل کے ساتھ نہ کھیلے اور ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کرے۔‘‘ آبنائے ہرمز کے تنازع پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ رواں سال مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے دوران انہوں نے عوام سے ورک فرام ہوم کو ترجیح دینے، ایندھن کی کھپت کم کرنے، ایک سال تک غیر ملکی سفر سے گریز کرنے، دیسی مصنوعات اپنانے، خوردنی تیل کے استعمال میں کمی، قدرتی کھیتی کو فروغ دینے اور سونے کی خریداری محدود کرنے کی اپیل کی تھی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں صرف تہران کی منظور شدہ گزرگاہیں قابل قبول ہوں گی۔ عمان کے مجوزہ عارضی بحری راستے پر اعتراض۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو بھی جہاز ان ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

میٹنگ کا ایک اہم موضوع مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات بھی رہا۔ اقتصادی مشاورتی کونسل کے اراکین نے خطے کی صورتحال پر اپنی تشخیص پیش کرتے ہوئے اس بحران کے بھارت اور عالمی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بڑھتے ہوئے معاشی خطرات کے پیشِ نظر اپنی پالیسی شرح سود میں 1 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد کر دیا ہے۔ بینک کے مطابق عالمی توانائی قیمتیں، مال برداری کے اخراجات اور انشورنس پریمیم اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے کہیں زیادہ ہیں، جبکہ سپلائی چین میں خلل کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فوج پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار ہے اور وہ اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

کانگریس نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے کشیدگی میں کمی، سفارت کاری کی بحالی، تعمیری مذاکرات اور بالآخر پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔