Bharat Express DD Free Dish

Energy Crisis

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ رواں سال مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے دوران انہوں نے عوام سے ورک فرام ہوم کو ترجیح دینے، ایندھن کی کھپت کم کرنے، ایک سال تک غیر ملکی سفر سے گریز کرنے، دیسی مصنوعات اپنانے، خوردنی تیل کے استعمال میں کمی، قدرتی کھیتی کو فروغ دینے اور سونے کی خریداری محدود کرنے کی اپیل کی تھی۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس کا پہلا ردعمل ہے اور اگر مفاہمتی معاہدے کی مزید خلاف ورزیاں ہوئیں تو آئندہ مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مخالف فریق کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایران نے امریکہ پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے معاہدے کی پہلی شق پر عمل درآمد نہ کرکے بداعتمادی اور وعدہ خلافی کا مظاہرہ کیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ منگل کے روز بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ایک فیصد بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں اوپیک کی خام تیل پیداوار بھی 8 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کم ہو کر 20.04 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔

گھروں میں پٹرول یا ڈیزل ذخیرہ کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انتہائی خطرناک بھی سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پٹرول آتش گیر مادہ ہے اور معمولی چنگاری بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے حکومت نے سختی سے ہدایت دی ہے کہ گھروں میں ایندھن جمع نہ کیا جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

وزیر اعظم نے ایوان کے ذریعے عالمی برادری کو پیغام دیا کہ موجودہ تنازعہ کا واحد حل سفارت کاری اور بات چیت ہے۔ انہوں نے اس بحران کا موازنہ کورونا وبا سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح بھارت نے وبا کے دوران چیلنجز کا مقابلہ کیا، اسی طرح موجودہ عالمی اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے بھی ملک پوری طرح تیار ہے۔

وزیراعظم کا آج کا خطاب بھارت کی مغربی ایشیا میں حکمت عملی، تجارتی چیلنجز اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کی حفاظت کے اقدامات پر مرکوز ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، یہ خطاب ملکی پارلیمنٹ میں بھارت کی خارجہ پالیسی کی سمت واضح کرے گا اور عالمی سطح پر بھارت کی موقف کو مستحکم کرے گا۔

ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں اور میزائل حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی منڈی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع مزید بڑھتا ہے اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو عالمی سطح پر تیل و گیس کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور توانائی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔