نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز راجیہ سبھا میں مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پر تفصیلی بیان دیتے ہوئے اسے بھارت کے لیے ایک ”غیر متوقع“ اور ”طویل المدتی چیلنج“ قرار دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت روکنا یا ان پر حملے کرنا بھارت کے لیے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے ایوان کے ذریعے عالمی برادری کو پیغام دیا کہ موجودہ تنازعہ کا واحد حل سفارت کاری اور بات چیت ہے۔ انہوں نے اس بحران کا موازنہ کورونا وبا سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح بھارت نے وبا کے دوران چیلنجز کا مقابلہ کیا، اسی طرح موجودہ عالمی اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے بھی ملک پوری طرح تیار ہے۔
سات بااختیار گروپس کا قیام
وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ حکومت نے اس بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سات اعلیٰ سطحی بااختیار گروپس تشکیل دیے ہیں۔ ان گروپس کا ماڈل کورونا دور میں بنائے گئے نظام کی طرز پر ہے۔ یہ گروپس تیل کی قیمتوں، سپلائی چین، کھاد کی دستیابی اور خلیجی ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کی حفاظت جیسے امور پر چوبیس گھنٹے نظر رکھیں گے اور فوری فیصلے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات اس لیے ضروری ہیں تاکہ بدلتی عالمی صورتحال کے درمیان بھارت کی معیشت اور سلامتی کو مستحکم رکھا جا سکے۔
توانائی بحران سے نمٹنے کی تیاری
وزیر اعظم مودی نے ایوان کو یقین دلایا کہ بھارت نے اپنی پیشگی منصوبہ بندی کے تحت 33 لاکھ میٹرک ٹن کا اسٹریٹجک پٹرولیم ذخیرہ تیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، تاہم بھارت اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے اپنے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اب توانائی کے لیے کسی ایک خطے پر انحصار نہیں کرتا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں سے تیل اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس سے خطرات میں کمی آئی ہے۔
خود انحصاری کی پالیسی پر زور
وزیر اعظم نے اپنی حکومت کی پچھلے دس برسوں کی پالیسیوں کو اس بحران کے دوران مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”آتم نربھر بھارت“ مہم نے ملک کو مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے صرف ایل پی جی درآمد پر انحصار کم کر کے پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کے فروغ اور مقامی پیداوار پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت اب ”میک ان انڈیا“ کے تحت اپنے جہاز بنانے کی صلاحیت بڑھا رہا ہے، جس سے مستقبل میں عالمی تجارتی راستوں پر انحصار کم ہوگا اور خطرات میں کمی آئے گی۔
بھارتی شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح
وزیر اعظم نے مغربی ایشیا میں موجود بھارتی شہریوں کی سلامتی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن کے ذریعے لاکھوں بھارتیوں کو محفوظ وطن واپس لایا ہے۔ اس دوران کچھ بھارتی شہریوں کی ہلاکت پر انہوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگی حالات میں ہر بھارتی شہری کی جان قیمتی ہے اور حکومت کی ٹیمیں مسلسل مدد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
سخت اقدامات کا اشارہ
وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ حکومت ملک کے اندر ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے دوران مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر اس تنازعہ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور امن کے قیام کے لیے سفارتی راستوں کو ترجیح دے رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



