Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری ایک پیغام میں نریندر مودی کو بھارت کا سب سے طویل عرصے تک مسلسل منتخب رہنے والا وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی۔ ٹرمپ نے لکھا کہ مودی ایک مضبوط، صحت مند اور ذہین لیڈر ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان قطر سمجھوتہ کرانے میں مصروف ہے۔ پردے کے پیچھے سے قطر کے وزیراعظم الثانی سمجھوتے کا ڈرافٹ تیار کرا رہے ہیں۔ اسی درمیان قطر کے نائب وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز کے ٹول کو درست قرار دیا ہے۔ اسے آبنائے ہرمز کے نظام کے لئے ضروری قراردیا گیا ہے۔

24 مئی کو عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کی قیادت میں عمانی وفد نے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کی سربراہی والے وفد سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ممکنہ ابتدائی معاہدے کا مسودہ سامنے آیا ہے۔ اس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور فوجی تعیناتی میں کمی جیسی اہم تجاویز شامل ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز کے مطابق، حملوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے میزائل لانچ کیے جا سکتے تھے، جبکہ ان ایرانی کشتیوں پر بھی کارروائی کی گئی جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

امریکہ سے ڈیل کی قیاس آرائیوں کے درمیان ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ٹول نہیں وصول کریں گے اورنہ تو ہم ٹول وصول کررہے ہیں۔ ہم جہازوں سے ماحولیاتی ٹیکس لیں گے۔ عمان کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ جلد ہی آبنائے ہرمز سے متعلق پروٹوکول جاری کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ کس ملک کا کیا کردار ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی فی الحال اس حوالے سے کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

وزیر اعظم نے “وکست بھارت 2047” کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ملک کے لیے حکومت کا عزم ہے۔ انہوں نے مختلف وزارتوں بشمول زراعت، توانائی، محنت، خارجہ امور اور روڈ ٹرانسپورٹ کی پریزنٹیشنز کا جائزہ لینے کے بعد ہدایت دی کہ کسی بھی نئی پالیسی یا اصلاح سے عوام کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے

بھارت میں ایران کے سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی دو روزہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کی۔ بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور سمندری راستوں پر تنازع کے درمیان آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور توانائی سلامتی کے مرکز میں آ گئی ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑسکتے ہیں۔