Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

حکومت کی جانب سے فوری وضاحت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سمندری سلامتی سے متعلق غلط معلومات اور افواہوں کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف بحری سرگرمیوں کے حوالے سے خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی ممالک کی بڑی مقدار میں تیل و گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ایران کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی اور خام تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری ایک پیغام میں نریندر مودی کو بھارت کا سب سے طویل عرصے تک مسلسل منتخب رہنے والا وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی۔ ٹرمپ نے لکھا کہ مودی ایک مضبوط، صحت مند اور ذہین لیڈر ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان قطر سمجھوتہ کرانے میں مصروف ہے۔ پردے کے پیچھے سے قطر کے وزیراعظم الثانی سمجھوتے کا ڈرافٹ تیار کرا رہے ہیں۔ اسی درمیان قطر کے نائب وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز کے ٹول کو درست قرار دیا ہے۔ اسے آبنائے ہرمز کے نظام کے لئے ضروری قراردیا گیا ہے۔

24 مئی کو عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کی قیادت میں عمانی وفد نے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کی سربراہی والے وفد سے ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ممکنہ ابتدائی معاہدے کا مسودہ سامنے آیا ہے۔ اس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور فوجی تعیناتی میں کمی جیسی اہم تجاویز شامل ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز کے مطابق، حملوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے میزائل لانچ کیے جا سکتے تھے، جبکہ ان ایرانی کشتیوں پر بھی کارروائی کی گئی جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

امریکہ سے ڈیل کی قیاس آرائیوں کے درمیان ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ٹول نہیں وصول کریں گے اورنہ تو ہم ٹول وصول کررہے ہیں۔ ہم جہازوں سے ماحولیاتی ٹیکس لیں گے۔ عمان کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ جلد ہی آبنائے ہرمز سے متعلق پروٹوکول جاری کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ کس ملک کا کیا کردار ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی فی الحال اس حوالے سے کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

وزیر اعظم نے “وکست بھارت 2047” کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ملک کے لیے حکومت کا عزم ہے۔ انہوں نے مختلف وزارتوں بشمول زراعت، توانائی، محنت، خارجہ امور اور روڈ ٹرانسپورٹ کی پریزنٹیشنز کا جائزہ لینے کے بعد ہدایت دی کہ کسی بھی نئی پالیسی یا اصلاح سے عوام کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے