Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین بحران اور جزیرہ نما کوریا سمیت کئی علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اس سال ہونے والے اے پیک اکنامک لیڈرز اجلاس اور جی-20 سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ منگل کے روز بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ایک فیصد بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں اوپیک کی خام تیل پیداوار بھی 8 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کم ہو کر 20.04 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔

ایرانی سفارت خانے نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ اسی لیے جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقررہ بحری راستوں پر عمل کریں، جاری کردہ انتباہات پر توجہ دیں اور ایرانی حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں۔

سعودی عرب نے آبنائے ہرمزمیں پروجیکٹ فریڈم کو روکنے کے لئے امریکہ پردباؤڈالا۔ سعودی عرب نے اعلان کیا کہ "آپ ایران سے لڑنے کے لئے ہمارے اڈے استعمال نہیں کر سکتے اورنہ ہی ہم اپنی فضائی حدود کو ٹیک آف کے لئے استعمال کرنے دیں گے۔"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اس آپریشن میں شامل امریکی طیاروں کو ریاض کے جنوب مشرق میں واقع پرنس سلطان ایئربیس استعمال کرنے یا اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب عالمی لیڈروں نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انتونیو کوسٹا نے کہا کہ شہری تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خاص طور پر جنوبی کوریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ بھی اس مشن میں شامل ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “ایران نے جنوبی کوریائی جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے، شاید اب جنوبی کوریا کو اس آپریشن میں حصہ لینا چاہیے۔”

فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مربوط اور باہمی مذاکرات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق، یہی طریقہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی تجارت کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی رکاوٹ اور ٹول ٹیکس کے آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اس کے کنٹرول میں ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے اس کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ان جہازوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے۔ عالمی تجارت کی بحالی ہدف۔