Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

بھارت میں ایران کے سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی دو روزہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کی۔ بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور سمندری راستوں پر تنازع کے درمیان آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور توانائی سلامتی کے مرکز میں آ گئی ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑسکتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین بحران اور جزیرہ نما کوریا سمیت کئی علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اس سال ہونے والے اے پیک اکنامک لیڈرز اجلاس اور جی-20 سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ منگل کے روز بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ایک فیصد بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں اوپیک کی خام تیل پیداوار بھی 8 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کم ہو کر 20.04 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔

ایرانی سفارت خانے نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ اسی لیے جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقررہ بحری راستوں پر عمل کریں، جاری کردہ انتباہات پر توجہ دیں اور ایرانی حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں۔

سعودی عرب نے آبنائے ہرمزمیں پروجیکٹ فریڈم کو روکنے کے لئے امریکہ پردباؤڈالا۔ سعودی عرب نے اعلان کیا کہ "آپ ایران سے لڑنے کے لئے ہمارے اڈے استعمال نہیں کر سکتے اورنہ ہی ہم اپنی فضائی حدود کو ٹیک آف کے لئے استعمال کرنے دیں گے۔"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اس آپریشن میں شامل امریکی طیاروں کو ریاض کے جنوب مشرق میں واقع پرنس سلطان ایئربیس استعمال کرنے یا اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب عالمی لیڈروں نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انتونیو کوسٹا نے کہا کہ شہری تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خاص طور پر جنوبی کوریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ بھی اس مشن میں شامل ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “ایران نے جنوبی کوریائی جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے، شاید اب جنوبی کوریا کو اس آپریشن میں حصہ لینا چاہیے۔”

فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مربوط اور باہمی مذاکرات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق، یہی طریقہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی تجارت کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی رکاوٹ اور ٹول ٹیکس کے آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔