PM Modi Met Iranian FM Seyed Abbas Araghchi: برکس اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات، دوطرفہ اور عالمی امور پر تبادلہ خیال
بھارت میں ایران کے سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی دو روزہ برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم ملاقات کی۔ بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے متعدد معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Strait of Hormuz: ایران نے امریکی ناکہ بندی کوغیر قانونی قرار دیا، کہا-’’ تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے آبنائے ہرمز، مگر ایرانی بحریہ سے تعاون ضروری‘‘
مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور سمندری راستوں پر تنازع کے درمیان آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست اور توانائی سلامتی کے مرکز میں آ گئی ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑسکتے ہیں۔
Strait of Hormuz: چین۔امریکہ تعلقات میں نئی پیش رفت، شی جن پنگ اور ٹرمپ نے تعاون بڑھانے پر دیا زور، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر اتفاق
دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین بحران اور جزیرہ نما کوریا سمیت کئی علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اس سال ہونے والے اے پیک اکنامک لیڈرز اجلاس اور جی-20 سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا۔
Crude Oil Prices: مغربی ایشیا کشیدگی کے سبب سپلائی چین پر دباؤ برقرار، آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد بھی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل رہنے کا خدشہ
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ منگل کے روز بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ایک فیصد بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں اوپیک کی خام تیل پیداوار بھی 8 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ کم ہو کر 20.04 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔
Strait of Hormuz: آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، جنوبی کوریا کے جہاز پر حملے میں ایران کی مسلح افواج کے ملوث ہونے کے تمام الزامات بے بنیاد: ایران
ایرانی سفارت خانے نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ اسی لیے جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقررہ بحری راستوں پر عمل کریں، جاری کردہ انتباہات پر توجہ دیں اور ایرانی حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں۔
سعودی عرب نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پرکیسے کردیا مجبور؟ ولی عہد محمد بن سلمان کے فیصلے سے ڈونلڈ ٹرمپ کو کرنا پڑا سرینڈر
سعودی عرب نے آبنائے ہرمزمیں پروجیکٹ فریڈم کو روکنے کے لئے امریکہ پردباؤڈالا۔ سعودی عرب نے اعلان کیا کہ "آپ ایران سے لڑنے کے لئے ہمارے اڈے استعمال نہیں کر سکتے اورنہ ہی ہم اپنی فضائی حدود کو ٹیک آف کے لئے استعمال کرنے دیں گے۔"
Saudi Arabia refuses its airspace use: سعودی عرب نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا، محمد بن سلمان کے فیصلے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ عارضی طور مؤخر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اس آپریشن میں شامل امریکی طیاروں کو ریاض کے جنوب مشرق میں واقع پرنس سلطان ایئربیس استعمال کرنے یا اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔
US Israel Iran conflict: وزیر اعظم مودی نےیو اے ای حملے کی سخت مذمت کی، عام شہریوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں قبول نہیں
دوسری جانب عالمی لیڈروں نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انتونیو کوسٹا نے کہا کہ شہری تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
Iran US War: ایران نے آبنائے ہرمز میں کئی جہازوں کو بنایا نشانہ، ایک جنوبی کوریائی مال بردار جہاز بھی شامل ہے :ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ نے خاص طور پر جنوبی کوریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ بھی اس مشن میں شامل ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، “ایران نے جنوبی کوریائی جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے، شاید اب جنوبی کوریا کو اس آپریشن میں حصہ لینا چاہیے۔”
Project Freedom: فرانس کا امریکی ’پروجیکٹ فریڈم‘ میں شرکت سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مذاکرات پر دیا زور
فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مربوط اور باہمی مذاکرات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق، یہی طریقہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی تجارت کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی رکاوٹ اور ٹول ٹیکس کے آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔





