Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz

مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے درمیان آبنائے ہرمز میں پھنسے 24 بھارتی جہازوں اور تقریباً 600 عملے کے ارکان کو نکالنے کے لیے مرکزی حکومت نے ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر ایک حساس اور خطرناک سمندری راستہ بنا دیا ہے۔ کئی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس کے بعد عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایسے حالات میں بھارتی ٹینکر کا اس راستے سے محفوظ گزر کر ممبئی پہنچ جانا ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توانائی بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تیل کمپنیوں کو یقین دلایا جائے کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی میں اس کا مرکزی کردار ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں صدر ٹرمپ کے براہ راست احکامات پر کی گئی ہیں اور ان کا مقصد عالمی سمندری راستوں کو درپیش خطرات کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی دہشت گرد گروہ یا ملک کو آبنائے ہرمز کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔

مارکیٹ کو سب سے زیادہ تشویش آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑنے والا اہم سمندری راستہ ہے۔ اسی راستے سے مشرق وسطی سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس دنیا بھر کو سپلائی کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی توانائی بازار مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔