Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump On Strait Of Hormuz: آبنائے ہرمز محفوظ ہے…، ٹرمپ نے کہا- استعمال کریں تیل کمپنیاں، ایران نے بھارتی جہازوں کو گزرنے کی دے دی اجازت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توانائی بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تیل کمپنیوں کو یقین دلایا جائے کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

یہ تصویر اے آئی سے بنائی گئی ہے۔

واشنگٹن/نئی دہلی: عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب استعمال کے لیے کھلی ہے اور تیل کمپنیوں کو بلا خوف اس راستے سے گزرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ دوسری جانب بھارت کے لیے ایک مثبت خبر یہ ہے کہ ایران نے بھارتی پرچم بردار جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث گزشتہ کئی دنوں سے آبنائے ہرمز میں صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی تھی۔ اس دوران ایران کی جانب سے بعض مغربی ممالک کے جہازوں پر میزائل حملوں کی خبریں بھی سامنے آئیں، جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم جنگ کے تیرہویں دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے علاقے میں موجود خطرات کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔

ٹرمپ کا تیل کمپنیوں کو پیغام
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توانائی بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تیل کمپنیوں کو یقین دلایا جائے کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔ ان کے مطابق اس کارروائی کے بعد سمندری راستہ زیادہ محفوظ ہو گیا ہے اور جہازوں کی آمدورفت جاری رہ سکتی ہے۔ اسی دوران انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے بھی ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے 400 ملین بیرل ہنگامی تیل ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں سپلائی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔

بھارت کی سفارتی کامیابی
جہاں ایک طرف امریکہ اپنی فوجی طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو محفوظ قرار دے رہا ہے، وہیں بھارت نے سفارتی حکمت عملی کے ذریعے اپنی توانائی اور تجارتی مفادات کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی بات چیت کے بعد ایران نے بھارتی پرچم بردار جہازوں کو اس سمندری راستے سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کے دو تیل بردار جہاز “پشپک” اور “پریمل” اس حساس سمندری راستے سے بحفاظت گزر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ بھارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

دو مختلف حکمت عملیوں کی جھلک
آبنائے ہرمز میں جاری صورتحال نے دنیا کے سامنے دو مختلف حکمت عملیوں کی تصویر پیش کی ہے۔ ایک جانب امریکہ عسکری طاقت کے ذریعے سمندری راستے کو محفوظ بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف بھارت نے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے اپنے تجارتی جہازوں اور توانائی کی سپلائی کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت بھارت کی متوازن خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ خطے میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے، تاہم بھارتی جہازوں کو دی گئی اجازت کو عالمی توانائی تجارت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read