Bharat Express DD Free Dish

Bank Strike: اٹھائیس ستمبر سے 5 دن بینک بند! ملک گیر ہڑتال کے اعلان سے مچا ہنگامہ، 26 اکتوبر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی بھی وارننگ

بینک یونینوں کے اعلان کے مطابق 28، 29 اور 30 ستمبر کو بینک ملازمین ملک گیر ہڑتال پر رہیں گے۔ اس کے بعد یکم اور 2 اکتوبر کو ہفتہ وار چھٹی اور قومی تعطیل کے باعث بینکنگ خدمات متاثر رہیں گی۔ اس سے قبل 11 ستمبر کو بھی بینک ملازمین نے اپنے مطالبات کے سلسلے میں علامتی ہڑتال کی تھی۔

نئی دہلی: ستمبر کے آخری ہفتے میں اگر آپ کو بینک سے متعلق کوئی ضروری کام، جیسے چیک جمع کرنا، قرض کی کارروائی یا نقد رقم نکالنے کا کام کرنا ہے تو پہلے ہی تیاری کرلیں۔ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (UFBU) نے 28 ستمبر 2026 سے تین روزہ ملک گیر بینک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس کے فوراً بعد ہفتہ اور اتوار کی چھٹی ہونے کی وجہ سے بینک مسلسل 5 دن تک متاثر رہیں گے۔ سال کی ہاف ایئرلی کلوزنگ سے عین قبل ہونے والی اس ہڑتال سے عام صارفین، تاجروں اور صنعت کاروں کے کروڑوں روپے کے لین دین متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

28 ستمبر سے 5 دن کا بینکنگ بریک

بینک یونینوں کے اعلان کے مطابق 28، 29 اور 30 ستمبر کو بینک ملازمین ملک گیر ہڑتال پر رہیں گے۔ اس کے بعد یکم اور 2 اکتوبر کو ہفتہ وار چھٹی اور قومی تعطیل کے باعث بینکنگ خدمات متاثر رہیں گی۔ اس سے قبل 11 ستمبر کو بھی بینک ملازمین نے اپنے مطالبات کے سلسلے میں علامتی ہڑتال کی تھی۔ یونینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر 28 ستمبر کی ہڑتال کے بعد حکومت اور انڈین بینکس ایسوسی ایشن (IBA) نے ان کے مطالبات کا حل نہیں نکالا تو 26 اکتوبر 2026 سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی جا سکتی ہے۔

آخر بینک ملازمین کیوں ناراض ہیں؟

بینک یونینوں اور لاکھوں ملازمین کا اہم مطالبہ ہفتے میں 5 دن کام اور 2 دن ہفتہ وار تعطیل نافذ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ یونینیں سینئر افسران کے لیے لائی گئی نئی ’پرفارمنس لنکڈ انسینٹو‘ (PLI) اسکیم کی بھی مخالفت کر رہی ہیں۔ یونینوں کا الزام ہے کہ نئے PLI فارمولے سے بینک کے صرف تقریباً 5 فیصد اعلیٰ افسران کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ 95 فیصد زمینی سطح کے ملازمین اور کلرک کیڈر کے ساتھ امتیازی سلوک ہوگا۔

ہاف ایئرلی کلوزنگ پر بھی بحران

ستمبر کا آخری ہفتہ بینکوں کے لیے ہاف ایئرلی کلوزنگ یعنی ششماہی مالیاتی اختتام کا اہم وقت ہوتا ہے۔ ایسے حساس وقت میں ہڑتال سے بینکنگ نظام پر اضافی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مالیاتی خدمات کے محکمے (DFS) کے سکریٹری نے تمام سرکاری اور علاقائی دیہی بینکوں کے سربراہان (CEO اور MD) کی ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ہڑتال کے دوران اے ٹی ایم میں نقدی کی قلت نہ ہو اور ضروری لین دین کے لیے متبادل انتظامات کیے جاسکیں۔

کون کون سے بینکنگ کام ہوں گے متاثر؟

28 ستمبر سے مسلسل پانچ دن تک بینک برانچوں میں ہونے والے کئی اہم کام متاثر رہیں گے۔

چیک کلیئرنس: مختلف قسم کے چیک کی پروسیسنگ متاثر ہوگی اور ادائیگی میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

کیش کاؤنٹر: بینک شاخوں سے نقد رقم جمع کرنے اور نکالنے کی سہولت متاثر رہے گی۔

ڈرافٹ اور پاس بک: بینک ڈرافٹ بنوانے، پاس بک اپ ڈیٹ کرانے اور نیا اکاؤنٹ کھلوانے جیسے برانچ سے متعلق کام متاثر ہوں گے۔

لون اور دستاویزات: قرض کی منظوری، فائل پروسیسنگ اور جائیداد سے متعلق دستاویزات کا کام رک سکتا ہے۔

ڈیجیٹل بینکنگ خدمات رہیں گی جاری

ہڑتال کے دوران عام صارفین کے لیے راحت کی بات یہ ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل بینکنگ خدمات جاری رہنے کی توقع ہے۔ صارفین UPI، گوگل پے، فون پے، پے ٹی ایم، نیٹ بینکنگ، موبائل بینکنگ اور اے ٹی ایم کے ذریعے لین دین کرسکیں گے۔ تاہم، نقد رقم کی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے لوگوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ ضرورت کے مطابق پہلے ہی اے ٹی ایم سے رقم نکال لیں۔ اس کے ساتھ ہی بینک شاخ سے متعلق بڑے کاغذی کام 27 ستمبر سے پہلے ہی مکمل کرلینا بہتر ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read