بھارت پر سپر ال نینو کا ایک سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے، جس کے حوالے سے 180 سے زائد سائنس دانوں نے ملک کو خبردار کیا ہے۔ کم بارش اور سمندروں کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے درمیان ماہرین نے آنے والے دنوں میں شدید خشک سالی، جان لیوا گرمی اور قدرتی نظام کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ملک بھر کے 180 سے زائد سائنس دانوں اور ماحولیاتی ماہرین نے ’’سپر ال نینو‘‘ کے حوالے سے مشترکہ انتباہ جاری کرتے ہوئے محققین سے نگرانی بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ بحرالکاہل میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور بھارت میں معمول سے کم مانسون بارش اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں شدید خشک سالی، جنگلات میں آگ اور زراعت کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے مطابق یہ صورتحال فروری 2027 تک برقرار رہ سکتی ہے، اس لیے ماحولیات اور حساس ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ابھی سے اقدامات کرنا ضروری ہے۔
180 سے زائد سائنس دانوں نے جاری کیا انتباہ
بھارت پر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک نیا اور سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ملک کے 180 سے زائد سائنس دانوں اور ماحولیاتی ماہرین نے ممکنہ ’’سپر ال نینو‘‘ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وارننگ جاری کی ہے۔ محققین اور ماہرین سے وسیع مشاورت کے بعد جاری کی گئی اس اپیل میں آنے والے حالات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاری کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس قدرتی موسمیاتی رجحان کا بھارت کے ماحول، موسم اور سماجی نظام پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔
مانسون میں کمی اور سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ
جنوب مغربی مانسون کی واپسی کے دوران محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار نے تشویش میں مزید اضافہ کیا ہے۔ بھارت میں مانسون کے دوران اوسط بارش میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، خاص طور پر جنوبی بھارت میں پانی کے بحران کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے کافی زیادہ ہو گیا ہے، جسے ال نینو کے مضبوط ہونے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق یہ ال نینو آگے چل کر شدید شکل اختیار کر سکتا ہے اور فروری 2027 تک اس کے اثرات برقرار رہنے کا امکان ہے۔
خشک سالی، شدید گرمی اور ماحولیاتی نظام کو نقصان کا خدشہ
سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ شدید ال نینو بھارت میں خشک سالی، ریکارڈ توڑ گرمی اور جنگلات میں آگ جیسی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر کسانوں، ماہی گیروں اور مویشی پالنے والوں کی روزی روٹی پر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مرجانی چٹانوں کے سفید پڑنے، بارانی جنگلات کے درختوں کو نقصان پہنچنے، جانوروں کے رویوں میں تبدیلی اور درختوں پر پھل آنے میں تاخیر جیسے بالواسطہ مگر سنگین ماحولیاتی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ماحولیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس ابتدائی انتباہ کو حساس ماحولیاتی نظام کی نگرانی اور ان کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



