Bharat Express DD Free Dish

Saudi Arabia-Houthi Crisis: سعودی کے تمام مددگار کیوں ہو گئے بے کار؟ پاکستان اور ترکیہ کے انکار نے ایم بی ایس کی بڑھائی مشکل

یمن میں حوثی باغیوں کے بڑھتے حملوں سے پریشان سعودی عرب نے شام، ترکیہ اور پاکستان سے مدد مانگی، لیکن مبینہ طور پر کسی بھی ملک نے یمن میں براہِ راست زمینی جنگ میں اترنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ باب المندب کے آس پاس حوثیوں کی بڑھتی سرگرمیوں نے مشرق وسطیٰ کے طاقت کے توازن اور عالمی تجارت سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یمن کے محاذ پر حوثی باغیوں کی بڑھتی سرگرمیوں نے سعودی عرب کے لیے صورتحال کو مشکل بنا دیا ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ ریاض کو اپنے پرانے ساتھیوں اور دوست ممالک سے مدد طلب کرنا پڑ رہی ہے۔ تاہم رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کو مختلف سمتوں سے براہِ راست فوجی کارروائی میں مدد کے معاملے پر انکار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یمن میں اپنی زمینی طاقت بڑھانے کے لیے سعودی عرب نے مبینہ طور پر شام سے جنگجو بھیجنے کی درخواست کی، لیکن دمشق نے یہ کہہ کر اسے مسترد کر دیا کہ وہ کسی دوسرے ملک کی جنگ میں براہِ راست مداخلت نہیں کرنا چاہتا۔

بحیرہ احمر میں بڑھتی کشیدگی

یمن کی جنگ ایک بار پھر انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ حوثی باغیوں کی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں ان کی اسٹریٹجک پوزیشن مضبوط ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مخا بندرگاہ اور باب المندب آبنائے کے آس پاس حوثیوں کی موجودگی مضبوط ہونے سے صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ عالمی تجارت کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ باب المندب وہ اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر یہاں بحران مزید گہرا ہوتا ہے تو عالمی بحری تجارت، توانائی کی فراہمی اور تجارتی منڈیوں پر اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اسی دوران ’ترکی ٹوڈے‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ریاض نے دمشق سے رابطہ کرکے شام کے جنگجوؤں کو یمن بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق شام نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اس کی توجہ اپنی فوج کی تنظیم نو پر ہے۔

مکہ دفاعی معاہدہ بھی براہِ راست جنگ کے کام نہ آیا

سعودی عرب کی مشکل اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب اس کے قریبی سمجھے جانے والے ممالک بھی یمن میں براہِ راست فوجی کارروائی کے لیے تیار نظر نہیں آئے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ موجود ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق پاکستان اور ترکیہ اپنی مدد کو سکیورٹی اور اسٹریٹجک تعاون تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے یمن میں حوثیوں کے خلاف براہِ راست زمینی جنگ میں شامل ہونے کے امکانات کم بتائے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے مصر اور مغربی ممالک سے مدد طلب کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم ان ممالک کی جانب سے کسی واضح فوجی یقین دہانی کی بات سامنے نہیں آئی ہے۔

خطے میں طاقت کا توازن بھی سوالوں کی زد میں

یمن کی صورتحال نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور علاقائی اتحادوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اتحادی براہِ راست زمینی جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔ دوسری جانب یہ بحث بھی جاری ہے کہ حوثیوں کی بڑھتی سرگرمیوں کے پیچھے ایران کی کتنی مدد اور اثر و رسوخ ہے۔ ایران حوثیوں کی حمایت کرتا ہے، تاہم مختلف فریق اس حمایت کی نوعیت اور حد کے بارے میں مختلف دعوے کرتے رہے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب کی صورتحال کے باعث یمن کا تنازع اب صرف علاقائی جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی بحری تجارت، توانائی کی فراہمی اور مشرق وسطیٰ کے وسیع تر سیاسی و عسکری توازن کے لیے بھی اہم بن گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read