Bharat Express DD Free Dish

Iran Crisis-Amit Shah Action Plan: ایران بحران پر امت شاہ کا ‘ایکشن پلان’: تیل کے ٹینکروں کو نکالنے کے لیے سپر کمیٹی قائم، تہران سے براہِ راست ہوگی بات چیت!

مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے درمیان آبنائے ہرمز میں پھنسے 24 بھارتی جہازوں اور تقریباً 600 عملے کے ارکان کو نکالنے کے لیے مرکزی حکومت نے ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔

اس کمیٹی میں امت شاہ، ایس۔ جے شنکر اور ہردیپ سنگھ پوری شامل ہیں، جو ایران کے ساتھ محفوظ راستہ فراہم کرنے کے معاملے پر براہِ راست بات چیت کر رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ پھنسے ہوئے جہازوں اور عملے کو جلد اور بحفاظت وہاں سے نکالا جا سکے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے درمیان بھارت کی مرکزی حکومت مکمل طور پر الرٹ موڈ میں آ گئی ہے۔ خام تیل (Crude) اور ایل این جی  کی سپلائی کو محفوظ رکھنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ کی سربراہی میں ایک انتہائی بااختیار تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

اس کمیٹی میں وزیرِ خارجہ ایس۔ جے شنکر اور وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود بھارت کے لیے توانائی کی سپلائی کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔اس وقت سب سے بڑی چیلنج وہ 24 بھارتی جہاز ہیں جو آبنائے ہرمز کے دوسری طرف پھنسے ہوئے ہیں۔ ان جہازوں پر 600 سے زیادہ بھارتی عملے کے ارکان موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق، امت شاہ خود اس آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ جنگ زدہ علاقے میں پھنسے ہمارے شہریوں اور ملک کی توانائی کی سپلائی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

ایران سے ‘خصوصی معاہدے’ کی تیاری؟

خبر ہے کہ حکومت ہند ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے کسی بھی تیل کے کنٹینر کو آبنائے ہرمز سے نہیں گزارے گا، لیکن بھارت کے ساتھ پرانی دوستی کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود تعداد میں بھارتی جہازوں کو محفوظ راستہ (Safe Passage) دینے پر بات چیت جاری ہے۔ فی الحال بھارت کے دو جہاز ‘پرمل’ اور ‘پوشپاک’ اسی محفوظ راستے سے گزر رہے ہیں، جن پر حکومت کی کڑی نظر ہے۔

امت شاہ کی حکمتِ عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ کا فوکس سپلائی چین کو متبادل راستوں سے برقرار رکھنے پر بھی ہے۔ اگرچہ آبنائے ہرمز کا راستہ بند ہے، بھارت نے دیگر متبادل راستوں کے ذریعے سپلائی کو 55 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کر دیا ہے۔ حکومت کا واضح پیغام ہے کہ دنیا میں جنگ ہو یا قیمتیں بڑھیں، بھارت کی مارکیٹ میں نہ تیل کی کمی ہوگی اور نہ ہی گیس کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read