Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Crisis

امریکہ نے اگست 2026 میں ایران کے خلاف اب تک کی سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس مہم کو’’اکنامک ڈی ڈے‘‘ کا نام دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ان پابندیوں کا بنیادی مقصد بیرون ملک ایران کے تمام اقتصادی اور آمدنی کے ذرائع کو مکمل طورپربند کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات (یواے ای) کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پربتایا کہ علاقے میں سنائی دینے والی تیز آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کوہوا میں ہی تباہ کیے جانے کی وجہ سے تھیں۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ وہ کسی بھی خطرے کا جواب دینے اورمتحدہ عرب امارات کی خود مختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لئے پوری طرح تیار ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفترکی جانب سے جاری بیان کے مطابق، دونوں لیڈران  نے مختلف معاملات پرگفتگوکی اوردونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اورتعاون جاری رکھنے پراتفاق کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکہ کی حالیہ سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ حج میں اگرایران پرحملہ ہوتا ہے تو لاکھوں عازمین پھنس جائیں گے۔ عرب کے مسلمان بھی اس سے ناراض ہوں گے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہیں امریکہ حج ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے پرپہنچنا چاہتا ہے۔

ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ 19 اپریل کو امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں بھی ہو سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکہ اس وقت دوہری حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ ایک طرف فوجی حملوں کو روکا جا رہا ہے اور دوسری جانب مالیاتی و سمندری پابندیوں کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی 90 فیصد سے زائد سمندری تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہی تو اقتصادی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں کرنسی پر دباؤ، مہنگائی میں اضافہ اور بینکاری بحران جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کل ہونے والے امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات سے قبل کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے کچھ شرائط رکھی ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے امریکہ کو دوکام کرنے چاہئیں۔

یہ تمام پیش رفت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے امریکی مطالبے سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ نے ایران کو واضح کیا ہے کہ اگر اس اہم بحری راستے کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ اس سمندری راستے کا کھلا، محفوظ اور روانی میں رہنا پوری دنیا کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے پر امن اور استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کے لیے رابطے میں رہنے پر متفق ہوئے ہیں۔