Bharat Express DD Free Dish

US Extends Ceasefire with Iran Indefinitely: امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی غیر معینہ مدت تک بڑھائی، بحری ناکہ بندی رہے گی جاری

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکہ اس وقت دوہری حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ ایک طرف فوجی حملوں کو روکا جا رہا ہے اور دوسری جانب مالیاتی و سمندری پابندیوں کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا ہے، جبکہ وسیع پیمانے پر بحری ناکہ بندی بدستور برقرار رکھی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں رکھا گیا اور تہران پر معاشی دباؤ جاری رکھنے کا ارادہ ہے۔

دوہری حکمت عملی کا اعلان
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکہ اس وقت دوہری حکمت عملی اپنا رہا ہے—ایک طرف فوجی حملوں کو روکا جا رہا ہے اور دوسری جانب مالیاتی و سمندری پابندیوں کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے… اور ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے باعث بدنام ہو چکی حکومت کو کچھ حد تک نرمی بھی دی گئی ہے۔”

فوجی وقفہ، مگر دباؤ برقرار
لیویٹ نے واضح کیا کہ فوجی کارروائی میں وقفے کا مطلب دباؤ میں کمی نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ’’براہِ راست فوجی حملوں پر جنگ بندی ہے، لیکن ’آپریشن اکنامک فیوری‘ جاری ہے اور مؤثر بحری ناکہ بندی بھی برقرار ہے۔” وائٹ ہاؤس کے مطابق اس ناکہ بندی نے ایران کو شدید معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ لیویٹ نے کہا، ’’ہم اس ناکہ بندی کے ذریعے ان کی معیشت کو جکڑ رہے ہیں… انہیں روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔‘‘ لیویٹ نے مزید کہا کہ ایران تیل کی ترسیل اور ادائیگی کے نظام کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہا ہے۔

مذاکرات کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں
معاشی دباؤ میں اضافے کے باوجود، امریکی انتظامیہ نے مذاکرات کے لیے کوئی حتمی وقت مقرر کرنے سے گریز کیا ہے۔ لیویٹ نے کہا، ’’صدر نے کوئی مخصوص ڈیڈ لائن طے نہیں کی… آخرکار یہ فیصلہ کمانڈر اِن چیف ہی کریں گے۔‘‘ اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ بات چیت کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ بندی یا ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی، تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ صدر کریں گے کہ کب یہ اقدام امریکہ اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے۔

ایرانی قیادت میں اختلافات
لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت کے اندر اختلافات بھی مذاکرات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اندرونی سطح پر شدید تقسیم موجود ہے… عملی سوچ رکھنے والوں اور سخت گیر عناصر کے درمیان کشمکش جاری ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن تہران کی جانب سے ’متفقہ ردعمل‘ کا انتظار کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کی جانب سے متضاد بیانات نے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ لیویٹ کے مطابق، ’’وہ عوامی سطح پر کچھ اور کہتے ہیں جبکہ نجی طور پر امریکہ سے مختلف بات کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ایرانی سرکاری بیانات پر مکمل انحصار نہ کرنے کی تنبیہ کی۔

امریکی موقف: برتری ہمارے پاس ہے
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کار ایرانی حکام سے براہِ راست رابطہ کر چکے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ حتمی فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے۔ اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے لیویٹ نے کہا، ’’اس وقت تمام تر اختیارات صدر ٹرمپ کے پاس ہیں… ایران کمزور پوزیشن میں ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بحران کے دوران صدر کے بیانات نے مذاکرات پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالا اور امریکہ اپنی ’ریڈ لائنز‘ کے حوالے سے مکمل طور پر واضح ہے۔

دیگر پیش رفت
اس کے علاوہ، لیویٹ نے بتایا کہ انتظامیہ ہوا بازی کے شعبے میں پیش رفت پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر اسپرٹ ایئرلائنز کے ممکنہ ریلیف پیکج سے متعلق خبروں کے تناظر میں، حالانکہ، اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔