Bharat Express DD Free Dish

white house

امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں حصہ لیا ہے، جن میں شہری ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق، یہ فوجی تنازع بہت تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔

کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ اس کارروائی کے لیے خطے میں 10 ہزار سے زائد امریکی بحریہ، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار، دو طیارہ بردار بحری جہاز، 20 سے زیادہ جنگی بحری جہاز اور درجنوں فوجی طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام فورسز اس وقت بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ تجارتی معاہدہ ممکنہ طور پر دونوں لیڈران کے درمیان گفتگو کا ایک اہم موضوع ہوگا۔ تاہم، حکام کو یہ امید نہیں ہے کہ سربراہی اجلاس کے دوران کسی حتمی معاہدے پر دستخط ہو سکیں گے۔

حکام نے ابھی تک حملہ آور کی شناخت یا حملے کے مقصد کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی ہیں۔ زخمی راہگیر کی حالت کے بارے میں بھی سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے اندر ایک ہائی سکیورٹی بال روم بنانے کے اپنے مطالبے کو دوبارہ دہرایا ہے۔ انہوں نے 150 سال کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے واقعے جیسے واقعات وائٹ ہاؤس جیسے اہم مرکز میں اس طرح کی سہولت کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فیصلہ کریں گے کہ تقریب دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔ انہوں نے سیکریٹ سروس اور دیگر اداروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فوری اور بہادرانہ کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق پانچ سے آٹھ گولیوں جیسی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد ہال میں افراتفری مچ گئی۔ سینکڑوں صحافیوں، سیاستدانوں اور مشہور شخصیات سے بھرے ہال کو فوراً خالی کرا لیا گیا۔ نیشنل گارڈ کو مقام پر تعینات کیا گیا اور علاقے کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکہ اس وقت دوہری حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ ایک طرف فوجی حملوں کو روکا جا رہا ہے اور دوسری جانب مالیاتی و سمندری پابندیوں کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایسے پوپ کو پسند نہیں کرتے جو ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کے حق میں نرم رویہ رکھتے ہوں یا امریکہ کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کریں۔ انہوں نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے تاکہ سخت قانون و نظم اور مضبوط خارجہ پالیسی نافذ کی جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے نہ صرف داخلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ مطالبات محض سیاسی دباؤ تک محدود رہتے ہیں یا واقعی 25ویں ترمیم کے نفاذ کی جانب کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے۔