دبئی: مغربی ایشیا میں امریکہ اورایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے اثرات ایک بارپھرمتحدہ عرب امارات (یو اے ای) تک پہنچ گئے ہیں۔ یواے ای کی وزارتِ دفاع نے بتایا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کی جانب آنے والے میزائل کے خطرے کا پتا لگایا۔ اس کے بعد دبئی کے رہائشیوں کے موبائل فون پرپہلا ہنگامی میزائل الرٹ جاری کیا گیا اورلوگوں سے سرکاری ہدایات پرعمل کرنے کی اپیل کی گئی۔
فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کیا
یواے ای کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پربتایا کہ علاقے میں سنائی دینے والی تیزآوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کوہوا میں ہی تباہ کئے جانے کی وجہ سے تھیں۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ وہ کسی بھی خطرے کا جواب دینے اورمتحدہ عرب امارات کی خودمختاری، سلامتی اوراستحکام کے تحفظ کے لئے پوری طرح تیارہے۔ کچھ ہی دیربعد حکام کی جانب سے دوسرا الرٹ جاری کیا گیا، جس میں لوگوں کوبتایا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے اورصورتحال مکمل طورپرمحفوظ ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران سے نہیں ہورہی ہے کوئی بات چیت
دوسری جانب، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان فی الحال کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی اورنہ ہی مستقبل قریب میں ایسی کوئی بات چیت طے ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پرایک پوسٹ میں آبنائے ہرمزکوامریکہ کا علاقہ قراردیا اوردعویٰ کیا کہ اہم سمندری راستہ جہازوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طورپرکھلا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سمندرمیں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں۔
جارحانہ فوجی حکمت عملی کی طرف بڑھ رہا ہے ایران
ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے اس دعوے کے برعکس ہے، جس میں تہران نے آبنائے ہرمزکوبند کرنے کی بات کہی تھی۔ رائٹرزکی رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہونے اورسفارتی تعطل بڑھنے کے درمیان ایران کے ایک سینئرعہدیدارنے کہا ہے کہ تہران اب زیادہ جارحانہ فوجی حکمت عملی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم ہونے کی امیدیں کم ہونے کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بارپھراضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی گراوٹ درج کی گئی ہے، جبکہ امریکہ سمیت کئی بڑی معیشتوں میں قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



