Bharat Express DD Free Dish

UAE

دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے گروپ بی کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔ سری لنکا کی جانب سے 3 وکٹیں حاصل کرنے والی چیتنا ویمکتی کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا، جبکہ کپتان چماری اٹاپٹو نے 9 باؤنڈریز کی مدد سے ناقابل شکست 48 رنز بنائے۔

متحدہ عرب امارات (یواے ای) کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پربتایا کہ علاقے میں سنائی دینے والی تیز آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کوہوا میں ہی تباہ کیے جانے کی وجہ سے تھیں۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ وہ کسی بھی خطرے کا جواب دینے اورمتحدہ عرب امارات کی خود مختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لئے پوری طرح تیار ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف کئی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ایران کی انقلابی گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

محکمہ خارجہ کے مطابق، ایران اپنی برآمدات کو مختلف ممالک میں پھیلے شپنگ نیٹ ورک کے ذریعے روانہ کرتا ہے۔ بعض جہازوں پر الزام ہے کہ وہ ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ اور دیگر خفیہ طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی سامان کی ترسیل کر رہے تھے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اب ان دونوں ممالک نے ایران جنگ میں الجھے ہوئے امریکہ کو دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے امریکی خزانے سے 15 ارب ڈالرنکال لئے ہیں، جس کے امریکی معیشت پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں نے کھل کرایران پر مزید حملوں کی مخالفت کی ہے۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور انہیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ وقت بہت قیمتی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جنگ جیسے حالات کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہے اور بھارت ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا، محفوظ اور آزاد رکھنا بھارت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی قوانین پر عمل ضروری ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے خفیہ طور پر یو اے ای کا دورہ کیا اور وہاں اہم ملاقاتیں کیں۔

ایسا مانا جا رہا ہے کہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملے کا مشترکہ جواب نہ دینے کی وجہ سے یو اے ای میں ناراضگی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے ایران کے خلاف واضح مؤقف نہ اپنانا بھی ایک وجہ ہے۔

گزشتہ سال یو اے ای بھارت کو تیل فراہم کرنے والے ممالک میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر رہا۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تیل کا کاروبار تقریباً 13.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جو مضبوط اقتصادی تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔