Indian Stock Market: امریکہ-ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے سے بھارتی شیئر بازار سرخ نشان میں کھلا، نفٹی 24,000 سے نیچے پھسلا
عالمی سطح پر کمزور اشاروں کے درمیان بھارتی شیئر بازار کی شروعات بدھ کے روز گراوٹ کے ساتھ ہوئی۔ اس دوران سینسیکس 472.96 پوائنٹس یا 0.61 فیصد کی کمی کے ساتھ 76,471.32 اور نفٹی 197.80 پوائنٹس یا 0.82 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 23,858.00 پر تھا۔
Missile alert in Dubai after several weeks: کئی ہفتوں بعد دبئی میں میزائل الرٹ، یو اے ای میں شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت
متحدہ عرب امارات (یواے ای) کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پربتایا کہ علاقے میں سنائی دینے والی تیز آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کوہوا میں ہی تباہ کیے جانے کی وجہ سے تھیں۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ وہ کسی بھی خطرے کا جواب دینے اورمتحدہ عرب امارات کی خود مختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لئے پوری طرح تیار ہے۔
ایران پر نئے حملے کے خلاف کیوں ہے سعودی عرب؟ ٹرمپ کو کیوں دیا پیچھے ہٹنے کا مشورہ؟ جانئے پوری تفصیل
سعودی عرب نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پرنئے فوجی حملے نہیں کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسے خوف ہے کہ جنگ بڑھنے سے آبنائے ہرمز، عالمی تیل فراہمی اوراس کے وژن 2030 منصوبے پرسنگین اثرپڑسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق بڑی جنگ! امریکہ نے ایران کے انفراسٹرکچرکو بنایا نشانہ، تہران نے کی کویت میں کی میزائلوں پربوچھار
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمزکے کنٹرول پر تنازعہ بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ نے ایرانی فوجی اڈوں، نگرانی کے مراکز، زیرزمین ہتھیاروں کے ڈپو اور سمندری انفراسٹرکچر پر بڑے حملے کئے ہیں۔
Middle East Tension: ایران نے پاکستان کے بعد سعودی عرب سے بھی کیا رابطہ، ٹرمپ اور نیتن یاہومیں بھی ٹیلیفونک بات چیت، ایران-امریکہ جنگ سے مشرق وسطیٰ میں حالات سنگین
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور امریکی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات پر اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال پر آئندہ بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔
Massive Explosions Several Iranian Cities: ایران کے کئی شہروں میں زبردست دھماکے، امریکہ نے نئے حملے کی تردید کی، ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ٹیلی فون پر رابطہ
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفترکی جانب سے جاری بیان کے مطابق، دونوں لیڈران نے مختلف معاملات پرگفتگوکی اوردونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اورتعاون جاری رکھنے پراتفاق کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکہ کی حالیہ سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔
US-Iran War: امریکہ-ایران کے درمیان خطرناک جنگ پھر شروع، کویت سے بحرین تک تباہی، دوبارہ جنگ شروع ہونے کی کیا ہے وجہ؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں مذاکرات کی میزپر خود کو کمزور دکھانا نہیں چاہتے۔ اسی لئے وقتاً فوقتاً فوجی کارروائیاں اور سخت بیانات دے کر ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر بند کردے، جبکہ ایران اپنے موقف پر قائم ہے اور کسی قسم کی پسپائی کے آثار نہیں دکھا رہا ہے۔
US-Iran War: امریکہ نے ایران پر کیا بڑا حملہ، ریلوے برج تباہ کرنے کا دعویٰ، ڈونلڈ ٹرمپ نے ویڈیو شیئر کرکے کہی یہ بڑی بات
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پرامریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف اضافی فوجی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے، جس کے ذریعہ، امریکی مؤقف کے مطابق، وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کے لئے خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔ امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں اور ان کے شہری عملے پر ہونے والے مبینہ حملوں کے لیے ایران ذمہ دارہے۔
US-Iran War News: ایران کے ضبط شدہ فنڈ سے 25 فیصد جاری کرنے کے لئے تیار ہے امریکہ، تیل پابندیوں میں بھی ملے گی چھوٹ، ڈونلڈ ٹرمپ کے رخ میں بڑی تبدیلی
وہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر بڑی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرایران نے جلد ہی نیوکلیئرمعاہدہ پربہترتجویزنہیں دی تو امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گھڑی چل رہی ہے اورایران کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا ایکسیو سے بات چیت میں کہا کہ امریکہ ابھی بھی جنگ ختم کرنے کے لئے معاہدہ چاہتا ہے۔
Donald Trump on US-Iran Ceasefire: ڈونلڈ ٹرمپ نے دی بڑی خوشخبری، امریکہ-ایران کے درمیان جمعہ کے روز ہوسکتے ہیں امن مذاکرات، جانئے تہران کا جواب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب حالات بے حد کشیدہ ہوگئے ہیں۔ جنگ بندی پر اختلاف، سمندری محاذ آرائی اور سفارتی تعطل جاری ہے۔





