امریکہ اورایران کے درمیان ایک بارپھرکشیدگی شدت اختیارکرگئی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف مسلسل حملے اورسخت بیانات دے رہے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں حالات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف فوجی طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی ایک حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے، جسے بین الاقوامی سیاست کی اصطلاح میں “Coercive Diplomacy” اور “Brinkmanship” کا امتزاج قراردیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے حال ہی میں ایران کے آٹھ مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے بحرین اورکویت پرحملے کئے۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا بھرمیں تشویش پائی جا رہی ہے اورعالمی معیشت پربھی اس کے اثرات ظاہرہونے لگے ہیں۔
طاقت کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اورایران دونوں مذاکرات کی میزپرخود کوکمزوردکھانا نہیں چاہتے۔ اسی لئے وقتاً فوقتاً فوجی کارروائیاں اورسخت بیانات دے کرایک دوسرے پردباؤبڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طورپربند کردے، جبکہ ایران اپنے مؤقف پرقائم ہے اورکسی قسم کی پسپائی کے آثارنہیں دکھا رہا ہے۔
عالمی منڈیوں پراثرات
امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی بڑھتے ہی عالمی تیل اورشیئربازاروں میں اتارچڑھاؤدیکھنے کوملتا ہے۔ بڑے سیاسی اورعسکری واقعات سرمایہ کاروں کے اعتماد اورعالمی منڈیوں کی سمت پراثراندازہوتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ صرف بازاروں کومتاثرکرنے کے لئے نہیں ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کواپنی قومی سلامتی کے لئے خطرہ قراردیتا رہا ہے۔ اسی لئے امریکہ کی ایران پالیسی پراسرائیلی خدشات کا اثرہونا فطری سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ امریکہ اپنے فیصلے قومی مفادات کی بنیاد پرکرنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری انتہائی مضبوط ہے۔
تیل کی قیمتوں کا معاملہ
ایران کی معیشت کا بڑا انحصارتیل کی برآمدات پرہے، اس لئے عالمی منڈی میں خام تیل کی بلند قیمتیں اس کے لئے معاشی طورپرفائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں کا تعین صرف ایران نہیں بلکہ مختلف ممالک کی پیداوار، رسد اورطلب سے بھی ہوتا ہے۔ بین الاقوامی امورکے ماہرین کے مطابق امریکہ اورایران کے درمیان ماضی میں بھی ایسے مواقع آئے ہیں، جب مذاکرات جاری رہنے کے باوجود کشیدگی برقراررہی۔ اس کا مقصد اپنے مؤقف کومضبوط ظاہرکرنا اورمخالف فریق کوزیادہ رعایتیں دینے پرمجبورکرنا ہوتا ہے۔ دونوں ممالک یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی داخلی سیاست میں کمزوری کا تاثرنہ جائے۔
آبنائے ہرمزاوریورینیم تنازعہ
ایران آبنائے ہرمزکواپنی اسٹریٹجک طاقت کا اہم مرکزسمجھتا ہے، کیونکہ دنیا کے بڑے حصے کی تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ اوراس کے اتحادی نہیں چاہتے کہ اس اہم بحری راستے پرکسی ایک ملک کا غلبہ ہو۔ اس کے علاوہ ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام سے متعلق بھی کئی برسوں سے تنازعہ جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں انتخابی ماحول کے دوران قومی سلامتی کے مسائل ہمیشہ اہمیت اختیارکرجاتے ہیں۔ ایسے وقت میں کسی بھی صدرکے لئے مضبوط قیادت کا تاثردینا سیاسی طورپرفائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق طاقت اورامن، دونوں کا توازن قائم رکھنے کی کوشش بھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




