امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی خوشخبری دی ہے۔ (فائل فوٹو)
US-Iran War: امریکہ اورایران کے درمیان دوسرے دورکی امن مذاکرات سے متعلق تعطل کی صورتحال برقرارہے۔ تاہم اس درمیان امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے مثبت اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت سے متعلق ”خوشخبری“ ہے اورامکان ہے کہ جمعہ کے روزمذاکرات ہوسکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب حالات بے حد کشیدہ ہوگئے ہیں۔ جنگ بندی پراختلاف، سمندری محاذ آرائی اورسفارتی تعطل جاری ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اشارے کوایک ممکنہ سفارتی پیش رفت کے طورپردیکھا جا رہا ہے۔ حالانکہ ابھی تک کسی سرکاری شیڈول یا ایجنڈے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ صورتحال بدستورنازک ہے، لیکن اگربات چیت جمعہ کوہوتی ہے تویہ کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
امن مذاکرات پرڈونلڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ
امریکہ اورایران کے درمیان دوسرے دورکے امن مذاکرات سے متعلق متضاد اشارے ابھررہے ہیں، جس سے صورتحال مزید الجھ گئی ہے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، امن مذاکرات آئندہ 36 سے 72 گھنٹے کے اندرشروع ہوسکتی ہے، جس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ سفارتی کوششیں دوبارہ پٹری پرآسکتی ہیں۔ تاہم دوسری طرف ایران نے ان دعوووں کوازسرنوخارج کردیا ہے۔ پاسداران انقلاب سے وابستہ ایجنسی تسنیم نیوزنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرپوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کا جنگ بندی بڑھانے کا دعویٰ جھوٹا ہے اور فی الحال جمعہ تک کسی بھی مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ترامپ باز هم دروغ گفت
ایران فعلا تصمیمی برای مذاکره روز جمعه ندارد
— خبرگزاری تسنیم – خبر فوری (@Tasnimbrk) April 22, 2026
ایران نے مذاکرات سے کیا انکار
اس طرح ایک طرف امریکی گروپ بات چیت سے متعلق امید کا اظہارکررہا ہے جبکہ ایران کھل کرانکارکررہا ہے۔ یہی متضاد صورتحال پورے بحران کومزید مشکل بنا رہا ہے، جہاں سفارتی اورٹکراودونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



