Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Ceasefire

ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں نے ایران کے ساتھ عرب امن مفاہمت نامہ کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز اور جوہری معائنے کے بارے میں امریکی دعووں کو مسترد کر دیا ہے، جس سے بداعتمادی مزید گہری ہوگئی ہے۔ ٹرمپ کے ہتھکنڈے امن کے عمل کو پٹری سے اتار کرجنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اورامن کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں قطراور پاکستان کی ثالثی کے درمیان امریکہ اور ایران میں بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ اس کا اعلان قطرکے وزارت خارنہ کیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کی شرائط پربات چیت کے لیے خصوصی تکنیکی اورماہرگروپ قائم کئے گئے ہیں۔ یہ گروپ ایم اویوکے تمام پہلوؤں کا احاطہ کریں گے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ایران کوئی ٹول نہیں وصول کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وارننگ دی کہ اگر ایران ڈیل پوری نہیں کرپاتا تو اس اہم شاہراہ پرامریکہ ٹول لگا سکتا ہے۔

 اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد جنوبی لبنان میں پھر تشدد کی بات سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی ہوائی اورڈرون حملوں میں 5 افراد کے ہلاک ہونے کی خبرہے۔ کئی گھرتباہ ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے بفرزون سے فوج نہیں ہٹائی ہے، جس سے جنگ بندی پرسوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

بھارت نے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا تھا۔ تقریباً 14 ماہ بعد پاکستان نے اب دھمکیوں کا سہارا لیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد اسے برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان کے تمام حربے ناکام ہوگئے تواب وہ اپنے پرانے اوربوسیدہ ہتھکنڈوں کی طرف لوٹ آیا ہے۔ اس نے بھارت کودھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگراس نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسلام آباد جوابی کارروائی کے لیے تیارہے۔

 40 دنوں کی جنگ اورزبردست نقصان کے بعد جی-7 میں امریکہ-ایران کے درمیان معاہدہ ہوا۔ ٹرمپ نے اسے بڑی جیت بتایا، لیکن معاہدے کی شرائط سے لگتا ہے کہ انہوں نے ایران میں اقتدار تبدیلی، یورینیم، میزائل پروگرام اور اقتصادی پابندیوں پر سرینڈرکیا۔ ایران کو 300 ارب ڈالر اور تیل کی برآمد کی چھوٹ ملی۔ یہ معاہدہ ٹرمپ کی 'زیادہ پریشر' پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

امریکہ-اسرائیل کی ایران سے کئی ماہ سے چل رہی جنگ کے کئی مقاصد تھے، لیکن سب سے اہم تھا کہ اسلامی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور تہران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکا جائے، لیکن اب اس سے متعلق بھی کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔

لبنان کی سرکاری میڈیا نے جانکاری دی ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم ازکم چارلوگوں کی موت ہوئی۔ حملہ اس وقت ہوا، جب امریکہ اورایران کے درمیان معاہدہ پراتفاق رائے ہوا اوراعلان کیا گیا تھا۔

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حتمی مسودے کا اعلان چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔ فریقین نے کئی معاملات پر اتفاق کیا ہے۔ اب اس کا باضابطہ اعلان ہونے سے پوری دنیا کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز میں امریکہ اورایران کے درمیان ہوئی گولی باری سے جنگ کا خطرہ بڑھا۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور شیئربازار میں گراوٹ آرہی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جانتے ہیں کہ کیا عالمی توانائی کا بحران مزید گہرا ہو گا؟