Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Ceasefire

ایران نے آبنائے ہرمزکوکھولنے اورامریکہ کواس کی ناکہ بندی ختم کرنے کی اجازت دینے کی تجویزپیش کی، جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں ہوسکتے ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ امریکہ پہلے جوہری ہتھیاروں پرپابندی چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازعہ کی وجہ سے آبنائے ہرمزجوکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے ایک اہم آبی گزر گاہ ہے، گزشتہ دو ماہ سے بند ہے، جس سے عالمی سطح پرتیل اور گیس کی سپلائی پربہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب حالات بے حد کشیدہ ہوگئے ہیں۔ جنگ بندی پر اختلاف، سمندری محاذ آرائی اور سفارتی تعطل جاری ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمزپرسخت موقف اپنایا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ آبنائے ہرمز کو مکمل طورپر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کی ملٹری کمانڈ نے کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی اقدامات کے خلاف احتجاج میں کیا گیا ہے۔

ایران اورامریکہ کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دورپیر کے روز(20 اپریل) اسلام آباد میں متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق، دونوں ممالک کے وفود اتوار کواسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اس اعتماد کا اظہارکیا کہ دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ کے روزامریکہ اورایران کے درمیان اہم بات چیت ہو رہی ہے۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی سے چل رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ تقریباً دو گھنٹے تک چلی امن مذاکرات میں دونوں فریق نے رضامندی تک پہنچنے کے لئے نرم رویہ دکھایا ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور جلد شروع ہوگا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی میزبانی میں امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے مذاکرات کے لئے دونوں ممالک کے وفد پہنچ چکے ہیں۔ اسی دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ بھی پاکستان میں ہیں۔ جمعہ کے روز انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

سابق مرکزی وزیرسلمان خورشید نے امریکہ-ایران مذاکرات سے متعلق کہا کہ یہ بات چیت اگرناکام ہوئی تو صورتحال خراب ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پھر سے کوئی جنگ نہ ہو، بلکہ امن برقرار رہے۔ تاہم بدقسمتی سے جو کردارہمیں نبھانا چاہئے تھا کہ ہم امن کے سفیرہیں اور دنیا کو اچھے مشورے دیتے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ جنگ ​​بندی مذاکرات کے لئے ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقرقالیباف نے ماضی کی دھوکہ دہی کو یاد کرتے ہوئے امریکہ پرعدم اعتماد کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران مخلصانہ مذاکرات میں مصروف ہے، لیکن امریکہ پراعتماد نہیں کرتا۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کل ہونے والے امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات سے قبل کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے کچھ شرائط رکھی ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے امریکہ کو دوکام کرنے چاہئیں۔