Bharat Express DD Free Dish

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات سے پہلے پاکستان کیوں پہنچے سعودی عرب کے وزیر خارجہ؟ یہاں جانئے پوری تفصیل

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی میزبانی میں امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے مذاکرات کے لئے دونوں ممالک کے وفد پہنچ چکے ہیں۔ اسی دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ بھی پاکستان میں ہیں۔ جمعہ کے روز انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

امریکہ اورایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جنگ بندی مذاکرات کے لیے ہفتہ کے روزپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ اس سے ایک روزقبل جمعہ کے روزسعودی عرب کے وزیرخزانہ محمد الجدعان نے اسلام آباد میں پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کی تھی، جس میں باہمی سود مند امورپرتبادلہ خیال کیا گیا اوردونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط کیا گیا تھا۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اوروزیرخارجہ اسحاق ڈاراورچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔ خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی کے پیش نظراس ملاقات کوانتہائی اہم قراردیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان، دونوں ممالک یعنی ایران اورامریکہ کے درمیان ثالثی کررہا ہے۔

میٹنگ کے دوران کیا ہوئی بات؟

ملاقات کے دوران پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزاورولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کومبارکباد پیش کی اورپاکستان کے لئے مملکت کی مسلسل حمایت کی تعریف کی۔ انہوں نے سعودی عرب کی دیرینہ اقتصادی اورمالی امداد کی تعریف کی، جس نے پاکستان کے معاشی استحکام میں اہم کردارادا کیا ہے۔ شہبازشریف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے گہرے اوردیرینہ تعلقات ہیں اوراس بات پرزوردیا کہ پاکستان کی عوام اورحکومت ہمیشہ مملکت کے ساتھ “کندھے سے کندھا ملا کر” کھڑے رہے ہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ تعاون کو وسعت دیتا رہے گا پاکستان

محمد الجدعان سے ملاقات کے دوران وزیراعظم شہبازشریف نے اس بات پرزوردیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعاون کووسعت دیتا رہے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری اوراقتصادی ترقی میں تعاون بڑھانے کے لئے پاکستان کے عزم پربھی زوردیا۔

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read