Urdu Conclave 2026

ڈونلڈ ٹرمپ کے نہ تواہداف ہوئے مکمل اورنہ ہوئی اقتدارکی تبدیلی… بنجامن نتین یاہو کی قیادت میں اسرائیل کوبھی ہوا بڑا نقصان، امریکہ-ایران معاہدہ کی تلخ حقیقت جاننا ضروری

 40 دنوں کی جنگ اورزبردست نقصان کے بعد جی-7 میں امریکہ-ایران کے درمیان معاہدہ ہوا۔ ٹرمپ نے اسے بڑی جیت بتایا، لیکن معاہدے کی شرائط سے لگتا ہے کہ انہوں نے ایران میں اقتدار تبدیلی، یورینیم، میزائل پروگرام اور اقتصادی پابندیوں پر سرینڈرکیا۔ ایران کو 300 ارب ڈالر اور تیل کی برآمد کی چھوٹ ملی۔ یہ معاہدہ ٹرمپ کی ‘زیادہ پریشر’ پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

40 دنوں کی بارودی جنگ، 110 دنوں تک کشیدگی، 7000 افراد کی اموات اور اربوں ڈالرکے نقصان کے بعد آخرکار امریکہ-ایران کے درمیان معاہدہ ہوگیا۔ جی-7 سمٹ کے دوران ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 پوائنٹس والے ایم اویو (معاہدہ کے کا خط) پردستخط کئے۔ وہیں ایران کی طرف سے صدر محمد پیزشکیان نے معاہدے پردستخط کئے۔ معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جوش میں چلاتے ہوئے کہا… It’s signed- یعنی ڈیل پردستخط ہوگئے۔ جی-7 کے اسٹیج سے ٹرمپ نے خود کو باس بھی بتایا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرح سے ایران معاہدے کوبڑی حصولیابی کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن اگرمعاہدہ کی شرائط کو دیکھیں تو واضح ہوجائے گاک ہ جنگ شروع کرنے سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہدف طے کئے تھے، وہ پورے نہیں ہوئے۔ ٹرمپ نے تب ایران میں اقتدار تبدیلی تک کی بات کہی تھی، لیکن اقتدار تبدیلی تو چھوڑیئے، معاہدہ میں یورینیم، میزائل پروگرام اور اقتصادی پابندیوں پربھی سرینڈرکرتے نظرآئے۔

ایران کو نیوکلیئربم بنانے سے روک دیا: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایران کوجوہری بم بنانے سے روک دیا۔ یہ دنیا کے لئے سب سے اہم چیزتھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اسی اصول کواستعمال کرتے ہوئے خود کوایک ماسٹرڈپلومیٹ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن معاہدے کے دوران انہوں نے کتنے سیلف گول کئے؟ آئیے آپ کواس سے متعلق بتاتے ہیں۔ اس کے لئے معاہدہ کی ایک شرط کے ساتھ ٹرمپ کے سرینڈرکرنے کی پوری تصویرسمجھتے ہیں۔

معاہدے کی 14 اہم شرائط

جنگ بندی اور فوجی کارروائیوں کا خاتمہ

دونوں ممالک نے ہر قسم کی فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے۔

خودمختاری کا احترام

امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں گے اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

60 روز میں حتمی معاہدہ

فریقین 60 دن کے اندر مذاکرات کے ذریعے مستقل اور جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

بحری ناکہ بندی کا خاتمہ

امریکہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل فوری طور پر شروع کرے گا، جو 30 دن میں مکمل ہوگا۔

آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت

ایران خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کو محفوظ اور بلا معاوضہ گزرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

امریکی فوجی موجودگی میں کمی

حتمی معاہدے کے 30 دن کے اندر امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کم کرے گا۔

ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر

امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی فنڈنگ فراہم کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔

پابندیوں کے خاتمے پر مذاکرات

دونوں ممالک اقتصادی اور مالی پابندیوں کے خاتمے کے لیے فوری بات چیت شروع کریں گے۔

تمام پابندیاں ختم کرنے کا عزم

امریکہ نے اقوام متحدہ، آئی اے ای اے اور اپنی جانب سے عائد تمام پابندیاں ہٹانے کی اصولی یقین دہانی کرائی ہے۔

جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی

ایران نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

یورینیم افزودگی پر مزید مذاکرات

ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی سے متعلق معاملات پر مستقبل میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔

ایرانی تیل کی برآمدات میں نرمی

پابندیاں مکمل طور پر ختم ہونے تک امریکہ ایرانی تیل، بینکاری، انشورنس اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں خصوصی رعایتیں دے گا۔

منجمد اثاثوں کی بحالی

امریکہ ایران کے منجمد یا ضبط شدہ اثاثوں کی واپسی کے لیے مشترکہ طریقہ کار وضع کرے گا۔

نگرانی اور اقوام متحدہ کی منظوری

معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے مشترکہ ایگزیکٹو میکانزم قائم کیا جائے گا اور حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری دلانے کی کوشش کی جائے گی۔اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہوتا ہے تو اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جائے گا، جس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مجتبیٰ کی سفارتی کھیل پڑگئی بھاری

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجتبیٰ کا یہ اقدام سفارتی کھیل میں کامیاب ثابت ہوا۔ ٹرمپ کے اس بیان کوثابت کرتا ہے کہ ایران کبھی جنگ نہیں جیتتا، لیکن مذاکرات کی میزپرکبھی نہیں ہارتا۔ معاہدے کے بعد ٹرمپ کا 2020 کا بیان ایک بارپھرمنظرعام پرآیا۔ ٹرمپ بھلے ہی خود کومضبوط دکھانے کی کوشش کررہے ہوں، لیکن وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ معاہدہ انہوں نے مجبوری میں قبول کی۔ وہ اس کے لئے اب بہانے بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ طویل ہوجاتا تواقتصادی بحران آجاتا۔ 4 ہفتوں میں دنیا کا آئل ریزروختم ہوجاتا اوربدامنی پھیل جاتی۔ ٹرمپ معاہدے کی وجہ اقتصادی بحران کو بتا رہے ہیں، توایران کہہ رہا ہے کہ ہماری فوج نے کے طورپرپیش کررہے ہوں گے، لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انہوں نے مجبوری میں یہ معاہدہ قبول کیا۔ اب وہ اس کے لئے بہانے بنا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کی نکل گئی ہوا

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اگر جنگ جاری رہتی تو یہ معاشی کساد بازاری کا باعث بنتی۔ دنیا کے تیل کے ذخائرچارہفتوں میں ختم ہو چکے ہوتے اورافراتفری پھیل جاتی۔ ٹرمپ معاہدے کی وجہ معاشی خدشات بتا رہے ہیں جبکہ ایران یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اس کی فوج نے ٹرمپ کوہتھیارڈالنے پرمجبورکیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرغالیباف نے کہا کہ “ہم نے امریکہ اوراسرائیل دونوں کوشکست دی ہے۔ ایران نے 4 محاذوں پردشمن کا مقابلہ کیا، امریکہ اپنے کسی بھی مقصد کوحاصل کرنے میں ناکام رہا، دشمن کوسمجھوتہ کرنے پرمجبورہونا پڑا۔” اس کے علاوہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہمارے میزائل پروگرام پرکوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

مجبوری میں ٹرمپ نے تسلیم کیا

انہوں نے کہا کہ کوئی میزائلیں بات کرنے کے لئے نہیں حملہ کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ مجبوری میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مان لیا کہ انہیں ایران کے میزائل پروگرام سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ویسے ٹرمپ کو اب ایران کی کسی بھی شرط سے پریشانی نہیں ہے کیونکہ وہ بس اس بحران سے نکلنا چاہتے تھے۔ اعدادوشمار کے مطابق، ایران کی گھیرا بندی اور جنگ میں امریکہ کا ہر روز تقریباً ایک بلین ڈالرخرچ ہو رہا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read