US-Iran Relations: امریکہ سے عدم اعتماد کی فضا ختم کرنے کا مطالبہ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا-’’امریکہ اعتماد بحال کرے تو ایران امن کی راہ اختیار کرے گا‘‘
ایرانی صدر نے کہا ’’ایران اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے گا جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ جہاں کہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگا، وہاں ہماری بھی اسے جاری رکھنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔‘‘
US-Iran Conflict: ’’دشمن کو اپنے دستخط کی پاسداری کرنی ہوگی‘‘ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر امریکہ کو قائم رکھنے کے لیے دباؤ ڈالنا ضروری: صدر مسعود پزشکیان
دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔
Strait of Hormuz: ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی صرف ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں تک محدود، امریکی بحریہ محفوظ آمدورفت بنا رہی ہے یقینی: وائٹ ہاؤس
کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ اس کارروائی کے لیے خطے میں 10 ہزار سے زائد امریکی بحریہ، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار، دو طیارہ بردار بحری جہاز، 20 سے زیادہ جنگی بحری جہاز اور درجنوں فوجی طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام فورسز اس وقت بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہیں۔
Iran’s Revenge List: ایرانی اخبار نے جاری کی ’’انتقامی فہرست‘‘، ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور جورجیا میلونی سمیت 13 افراد کے نام شامل، حکومت نے اب تک نہیں کی توثیق
آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے عوامی خطاب کے ساتھ شائع ہونے والی فہرست نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ ایرانی حکومت کی باضابطہ توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔ فہرست میں کیراسٹارمر، ایمانوئل میکرون، جورجیا میلونی، فریڈرک مرز، مارکو روبیو، پیٹ ہیگستھ، بریڈ کوپر، مائیک ہکابی، ایال ضمیر اور گیدون سار شامل ہیں۔
Iran US Talks: تہران-واشنگٹن کے درمیان سیدھی بات چیت سے ایران کا انکار، ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا- کسی بھی صورت میں نہیں ہوگی میٹنگ
دوحہ میں امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق مذاکرات طے ہے۔ اس سے پہلے قطرنے اورخود ایران نے واضح کر دیا ہے کہ تہران اورواشنگٹن کے درمیان ملاقات نہیں ہوگی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ امریکی حکام سے کسی بھی سطح پرملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے نہ تواہداف ہوئے مکمل اورنہ ہوئی اقتدارکی تبدیلی… بنجامن نتین یاہو کی قیادت میں اسرائیل کوبھی ہوا بڑا نقصان، امریکہ-ایران معاہدہ کی تلخ حقیقت جاننا ضروری
40 دنوں کی جنگ اورزبردست نقصان کے بعد جی-7 میں امریکہ-ایران کے درمیان معاہدہ ہوا۔ ٹرمپ نے اسے بڑی جیت بتایا، لیکن معاہدے کی شرائط سے لگتا ہے کہ انہوں نے ایران میں اقتدار تبدیلی، یورینیم، میزائل پروگرام اور اقتصادی پابندیوں پر سرینڈرکیا۔ ایران کو 300 ارب ڈالر اور تیل کی برآمد کی چھوٹ ملی۔ یہ معاہدہ ٹرمپ کی 'زیادہ پریشر' پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
US-Iran Peace Deal: ”جنگ کا میدان نہیں چھوڑیں گے…‘‘ بنجامن نیتن یاہو کی سفارتی شکست سے بوکھلایا اسرائیل، ایران معاہدہ کو کردیا مسترد
اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی سفارتی شکست کودیکھتے ہوئے تل ابیب نے عجیب وغریب فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے میدان سے باہرنہ نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی لبنان پراسرائیل کا حملہ جاری رہے گا۔ اس سے امریکہ کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
Peace talks with US: امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایران نے اسماعیل بقائی کو مقرر کیا سرکاری ترجمان، اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کیا اعلان
حکم نامے میں کہا گیا کہ اسماعیل بقائی عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت اور مذاکرات سے متعلق عوامی سوالات کے جواب دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ قالیباف کے حکم نامے میں کہا گیا: ’’مجھے امید ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری اور توجہ کے ساتھ دنیا میں ایران کے موقف کو واضح کرنے اور ایرانی عوام کے سوالات کے جواب دینے میں کامیاب ہوں گے۔‘‘
Negotiations with Dignity: باوقار مذاکرات کے لیے ایران تیار، قومی مفادات اور عسکری طاقت کے ساتھ بات چیت کے لیے رضامند ہیں ایران کے صدر مسعود پزشکیان
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے سامنے اس وقت کئی راستے موجود ہیں۔ ان کے مطابق یا تو ایران وقار، طاقت اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ مذاکرات کرے اور ایرانی عوام کے حقوق حاصل کرے، یا پھر ’نہ جنگ نہ امن‘ کی کیفیت برقرار رہے، یا تصادم اور جنگ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی ترجیح ایسی سفارت کاری ہے جو عسکری طاقت اور قومی مفادات کی پشت پناہی سے آگے بڑھے۔
سعودی عرب نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پرکیسے کردیا مجبور؟ ولی عہد محمد بن سلمان کے فیصلے سے ڈونلڈ ٹرمپ کو کرنا پڑا سرینڈر
سعودی عرب نے آبنائے ہرمزمیں پروجیکٹ فریڈم کو روکنے کے لئے امریکہ پردباؤڈالا۔ سعودی عرب نے اعلان کیا کہ "آپ ایران سے لڑنے کے لئے ہمارے اڈے استعمال نہیں کر سکتے اورنہ ہی ہم اپنی فضائی حدود کو ٹیک آف کے لئے استعمال کرنے دیں گے۔"





