Hormuz Strait US-Iran Clash: مشرق وسطیٰ میں پھر جنگ کی آہٹ، خطرے میں پڑگئی جنگ بندی، ایرانی وزیر خارجہ کا بڑا بیان
آبنائے ہرمز میں امریکہ اورایران کے درمیان ہوئی گولی باری سے جنگ کا خطرہ بڑھا۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور شیئربازار میں گراوٹ آرہی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جانتے ہیں کہ کیا عالمی توانائی کا بحران مزید گہرا ہو گا؟
US-Iran Talks: کیا ایران کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ پڑگئے ہیں کمزور؟ امن بات چیت کے لیے ایرانی قیادت سے براہ راست ملاقات پر آمادہ
اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے امریکی وفد روانہ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس سے قبل یہ مذاکرات انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ اس عمل کے حوالے سے پُرامید نظر آتے ہیں، لیکن ایران کے سخت موقف کے باعث مذاکرات کی کامیابی پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔
Iran-US Talks: امریکہ کے ساتھ آئندہ مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، ایران کے وزیر خارجہ کا سخت موقف، کہا-’’قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘‘
اسلام آباد میں مجوزہ بات چیت کو ممکنہ کشیدگی سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھا جا رہا ہے، تاہم ایران کی سخت پوزیشن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
US-Iran Ceasefire Talks: امریکہ اورایران کے درمیان 16 اپریل کو ہوسکتی ہے دوسری میٹنگ، ترکیہ یا جنیوا میں بات چیت ممکن
امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک بار پھر راست بات چیت ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے افسر 21 اپریل کو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ایرانی افسران کے ساتھ ممکنہ طور پر دوسری میٹنگ کے ذریعہ تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔
Iran US Talks: ’’امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے تیار ہے تہران لیکن………‘‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے رکھی بڑی شرط
صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ ’’اگر امریکی حکومت اپنی بالادستی کی پالیسی کو ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرے تو معاہدے تک پہنچنے کے امکانات یقینی طور پر موجود ہیں۔‘‘
Donald Trump on US Iran Peace Talk: پاکستان میں بات چیت ناکام ہونے پر برہم ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کو پھر دی بڑی دھمکی
امریکی صدرڈونلڈ ترمپ کا رخ کافی سخت نظرآرہا ہے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈیل چاہے ہو یا نہ ہو، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکی۔
Iran television threat to Trump: اس بار نشانہ نہیں چوکے گا، ایرانی سرکاری چینل سے ملی ٹرمپ کو دھمکی
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری چینل نے جولائی 2024 میں امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں منعقدہ انتخابی جلسے کی ایک تصویر دکھائی۔ اس واقعے میں ٹرمپ پر گولی چلائی گئی تھی جو انہیں معمولی سا چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ جو پیغام نشر کیا گیا، اس میں لکھا تھا: ’’اس بار نشانہ چوکنے والا نہیں ہے۔‘‘





