تہران: ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ کسی نئے دور کے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی ثالثین اسلام آباد مذاکرات کے بعد اگلے مرحلے کی امید کر رہے تھے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ’’تہران فی الحال کسی اگلے دور کے مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘‘ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعطل مزید گہرا ہو چکا ہے اور موجودہ حالات کو بامعنی مذاکرات کے لیے غیر موزوں قرار دیا جا رہا ہے۔
قومی مفاد اولین ترجیح، مذاکرات ’میدان جنگ‘ کا تسلسل قرار
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے تمام سفارتی فیصلے قومی مفاد اور سلامتی کے تحت کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم موجودہ مذاکرات کو میدانِ جنگ کا تسلسل سمجھتے ہیں‘‘ اور یہ صرف اسی صورت میں مفید ہو سکتے ہیں جب وہ زمینی کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں مدد دیں۔ انہوں نے امریکہ پر ’’دباؤ اور زیادتی پر مبنی رویہ‘‘ اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
سرخ لکیریں واضح، مثبت اشارہ ملنے پر ہی مذاکرات ممکن
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے فیصلے پر قائم ہے، لیکن ’’ہر قیمت پر مذاکرات‘‘ کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اپنی واضح سرخ لکیریں طے کر رکھی ہیں، جن کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کا فیصلہ اسی صورت میں ہوگا جب امریکہ کی جانب سے مثبت اشارے اور تعمیری ردعمل سامنے آئے۔ انہوں نے لبنان کے مسئلے اور منجمد اثاثوں کی رہائی کو بھی ایران کی اہم شرائط میں شامل قرار دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب موجودہ جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے اور پہلے مرحلے کے مذاکرات آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم معاملات پر تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد میں مجوزہ بات چیت کو ممکنہ کشیدگی سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھا جا رہا ہے، تاہم ایران کی سخت پوزیشن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


