Bharat Express DD Free Dish

Iran US talks

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی سمت اور انداز دونوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔جے رام رمیش نے خبردار کیا کہ پاکستان اب مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست اور سکیورٹی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، جس کے بھارت کے لیے طویل مدتی اور دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔

ایرانی صدر نے گزشتہ 100 دنوں کے دوران ایرانی خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرگرم موجودگی نے ایران کے دشمنوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے اقدامات سے ایرانی انقلاب کمزور ہو جائے گا، لیکن خواتین کی فعال شرکت نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل بڑھ رہی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج کچھ نرمی دیکھی گئی ہے۔ عالمی بازاروں میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری اور بات چیت آگے بڑھنے سے سرمایہ کاروں کا خوف کم ہوا ہے، جس کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتیں نیچے آئی ہیں۔ تاہم شادیوں کے سیزن کو دیکھتے ہوئے ماہرین ابھی طویل مدتی گراوٹ کی امید نہیں کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے شروع ہونے کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث بین الاقوامی پروازیں معطل ہو گئی تھیں۔ تاہم اب پہلی بار حملوں کے آغاز کے بعد تہران سے بین الاقوامی پروازوں کا دوبارہ آغاز کیا گیا ہے۔ امام خمینی …

اسلام آباد میں مجوزہ بات چیت کو ممکنہ کشیدگی سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھا جا رہا ہے، تاہم ایران کی سخت پوزیشن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔

ایران نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا تھا کہ یہ مذاکرات جلد پاکستان میں ہونے والے تھے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا، تاہم اس بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور دونوں فریقوں کے درمیان یہ ملاقات ناکام رہی۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہونے کی امید ہے۔ اس درمیان پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بدھ کو سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے دورے پر جا رہے ہیں۔

صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ ’’اگر امریکی حکومت اپنی بالادستی کی پالیسی کو ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرے تو معاہدے تک پہنچنے کے امکانات یقینی طور پر موجود ہیں۔‘‘

امریکہ اور ایران کے درمیان گھنٹوں جاری رہنے والی بات چیت کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ بے نتیجہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد ایران کا وفد پاکستان سے روانہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس بھی اپنے ملک واپس جانے کے لیے اسلام آباد سے روانہ ہو گئے۔