Bharat Express DD Free Dish

Second Round Peace Talks: ایران نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے کیا انکار

ایران نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا تھا کہ یہ مذاکرات جلد پاکستان میں ہونے والے تھے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے کہا ہے کہ ملک نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘  پر اپنے انگریزی اکاؤنٹ کے ذریعے ایک پوسٹ میں کہا کہ مذاکرات کے دوسرے دور سے ایران کی غیر موجودگی کی وجہ امریکہ کے ’’بہت زیادہ مطالبات، غیر عملی توقعات، بار بار مؤقف میں تبدیلی، متضاد بیانات اور سمندری ناکہ بندی‘‘ ہیں۔ ایران کا ماننا ہے کہ یہ ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔

’میڈیا کا کھیل‘ اور ’’الزام تراشی کی حکمت عملی‘‘

آئی آر این اے نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے دور کے امن مذاکرات سے متعلق سامنے آنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔ چینی خبر رساں ایجنسی سنہوا نے فارسی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے حوالے سے یہ معلومات دی ہیں۔ایجنسی نے امریکہ کی جانب سے آنے والی خبروں کو ’میڈیا کا کھیل‘ اور ’’الزام تراشی کی حکمت عملی‘‘ قرار دیا، جس کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا ہے۔ اس نے کہا کہ امریکہ کے “حد سے زیادہ، غیر منطقی اور غیر عملی مطالبات، بار بار بدلتا مؤقف، متضاد بیانات اور مبینہ سمندری ناکہ بندی” کی وجہ سے اب تک مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔

مذاکرات سے مثبت نتیجے کی  کتنی امیدیں؟

آئی آر این اے نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات سے کسی مثبت نتیجے کی امید بہت کم ہے۔28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے مل کر تہران اور ایران کے دیگر کئی شہروں پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں اُس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، کئی سینئر فوجی افسران اور عام شہری مارے گئے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول قائم کر لیا۔8 اپریل کو دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔ اس کے بعد 11 اور 12 اپریل کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے، لیکن یہ بات چیت کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کے بعد امریکہ نے آبی راستوں پر اپنی ناکہ بندی نافذ کر دی۔ خبروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جلد پاکستان میں ایک اور دور کے امن مذاکرات ہونے کی امید تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔